چکوال(بیورو رپورٹ)پولیس کی وردی اور سرکاری ہتھیار کو لوٹ مار کے لیے استعمال کرنے والے دو پولیس اہلکار گرفتار،پلسیئوں کے ٹاؤٹ کے خلاف بھی مقدمہ درج ذرائع کے مطابق متاثرہ شہری نے تھانہ صدر پولیس کو دی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ روز راجہ نفیس نامی ایک دوست کی فون کال کے بعد اسکے ساتھ تترال جارہا تھا جب دونوں جہلم روڈ پر ضیاء پٹرولیم کے قریب سے تترال کو جانے والے راستے پر پہنچے تو کچھ ہی فاصلہ طے کرنے کے بعد راجہ نفیس نے موٹرسائیکل روک کر مبینہ طور پر فون آنے کا بہانہ کیا۔ اسی دوران پیچھے سے ہنڈا 125 موٹرسائیکل پر سوار پولیس وردی میں ملبوس دو مبینہ ڈکیت وہاں پہنچ گئے۔ایک باوردی ڈ۔کیت کے پاس رایفل جبکہ دوسرے کے پاس پستو۔ل تھا۔شہری نے الزام عائد کیا کہ دونوں پولیس وردی میں ملبوس ڈ۔کیت اسے قریبی کھیتوں میں لے گئے جہاں اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اس سے آئی فون 15 پرو میکس اور نقدی رقم چھین لی گئی۔متاثرہ شہری کے مطابق دونوں مبینہ پولیس اہلکاروں نے اس سے ایک لاکھ روپے کا مطالبہ کیا اور رقم نہ دینے کی صورت میں گولی مارنے کی د ھمکیاں دیتے رہے۔درخواست گزار کے مطابق شہری نے ان ڈکیتوں کو بتایا کہ اس کے پاس مزید رقم موجود نہیں جس پر مبینہ پولیس اہلکاروں نے اسے سی سی ڈی تھانے لے جانے کی بات کی۔ بعدازاں اسے راجہ نفیس کے موٹرسائیکل پر بٹھا کر سی سی ڈی تھانہ چکوال روانہ کیا گیا جبکہ دونوں مبینہ پولیس اہلکار بھی اپنے موٹرسائیکل پر سوار ہوکر ان کے پیچھے سی سی ڈی تھانے لیجانے کیلئے چل پڑے۔متاثرہ شہری کے مطابق جب وہ سرپاک کے قریب پہنچے تو دونوں مبینہ پولیس اہلکار واپس مڑ گئے۔درخواست گزار نے الزام عائد کیا کہ پورے واقعہ کے دوران راجہ نفیس کو ان مبینہ پولیس اہلکاروں نے ہاتھ تک نہیں لگایا جس کے باعث اسے شبہ ہے کہ اسے مبینہ طور پر منصوبہ بندی کے تحت وہاں لے جایا گیا تھا۔ شہری کے مطابق راجہ نفیس نے چند روز قبل اس سے 30 ہزار روپے ادھار مانگے تھے تاہم اس نے رقم دینے سے انکار کردیا تھا۔ شہری کی درخواست پر تھانہ صدر چکوال پولیس نے دو پولیس اہلکاروں اور ان کے مبینہ سہولت کار کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔چکوال پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران کانسٹیبل صدام حسین 874/C، متعینہ تھانہ سٹی چکوال، اور مبینہ سہولت کار راجہ نفیس ولد ناصر علی کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ دوسرے پولیس اہلکار کانسٹیبل محمد شہریار 3558/C، متعینہ پنجاب کانسٹیبلری، کی گرفتاری کے لیے پولیس ٹیمیں متحرک ہیں اور مختلف مقامات پر ریڈ کیے جا رہے ہیں۔پولیس کے مطابق دونوں پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی دستیاب شواہد کی روشنی میں عمل میں لائی گئی ہے جبکہ معاملے کی مزید تفتیش اور قانونی و محکمانہ کارروائی جاری ہے
