میرپور( بیورو رپورٹ)سوشل میڈیا پر دوہرے ڈومیسائل کے حوالے سے زیر گردش دعوے، ڈپٹی کمشنر میرپور کا 2018ء کا نوٹیفکیشن سامنے آ گیا،سعید احمد ولد بشیر احمد نے ضلع جھنگ میں مستقل رہائش اختیار کرنے کی بنیاد پر میرپور کا ڈومیسائل سرٹیفکیٹ منسوخ کرنے کی درخواست دی تھی، ڈپٹی کمشنر میرپور نے 2 دسمبر 2018ئکو سرٹیفکیٹ کی
منسوخی کا نوٹیفکیشن جاری کیا تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر محکمہ تعلیم کے ٹیچر سید احمد ولد بشیر احمد کے حوالے سے دو ڈومیسائل رکھنے کے دعوے زیر گردش رہے، تاہم اس معاملے کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر میرپور کی جانب سے 2 دسمبر 2018ء کو جاری کیا گیا نوٹیفکیشن اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق سعید احمد ولد بشیر احمد نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ انہوں نے ضلع جھنگ میں مستقل رہائش اختیار کر لی ہے، لہٰذا میرپور کا ڈومیسائل سرٹیفکیٹ منسوخ کیا جائے۔سعید احمد ولد بشیر احمد کو 16 جولائی 2002ء کو ضلع میرپور کا ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا تھا۔ بعدازاں انہوں نے ڈپٹی کمشنر میرپور کو درخواست دی کہ وہ ضلع جموں میں مستقل رہائش اختیار کر چکے ہیں، اس لیے میرپور کے ڈومیسائل سرٹیفکیٹ سے دستبردار ہونا چاہتے ہیں۔درخواست میں ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کی منسوخی کی استدعا کی گئی، جس پر ڈپٹی کمشنر میرپور کی جانب سے 2 دسمبر 2018ئ کو نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق مذکورہ نوٹیفکیشن میں سید احمد ولد بشیر احمد کے میرپور سے جاری شدہ ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کی منسوخی کا حکم دیا گیا۔نوٹیفکیشن کے مندرجات کے مطابق سرٹیفکیٹ کی منسوخی کے بعد متعلقہ شخص اس سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر ضلع میرپور سے متعلق کسی قانونی مفاد یا حق سے استفادہ کرنے کا حقدار نہیں ہوگا۔ اس طرح میرپور کے ڈومیسائل سے دستبرداری کے لیے دی گئی درخواست پر انتظامی کارروائی عمل میں لائی گئی۔یہ معاملہ اس وقت زیر بحث آیا جب سوشل میڈیا پر سعید احمد ولد بشیر احمد کے حوالے سے دو ڈومیسائل رکھنے کے دعوے سامنے آئے۔ تاہم دستیاب معلومات کے مطابق میرپور کے ڈومیسائل کی منسوخی کے لیے ان کی اپنی درخواست اور ڈپٹی کمشنر میرپور کا 2018ئ کا نوٹیفکیشن اس معاملے کا اہم ریکارڈ ہے۔سرکاری دستاویزات کی روشنی میں یہ فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ کسی شخص کے ڈومیسائل کی منسوخی کی درخواست دینا اور بیک وقت دو مؤثر ڈومیسائل سرٹیفکیٹ رکھنے کا الزام دو الگ امور ہیں۔ اس لیے سوشل میڈیا پر کیے جانے والے دعووں کی درست جانچ کے لیے متعلقہ سرکاری ریکارڈ اور نوٹیفکیشن کے اصل متن کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔مذکورہ معاملے میں 16 جولائی 2002ئ کو جاری ہونے والے ڈومیسائل سرٹیفکیٹ اور 2 دسمبر 2018ئ کو اس کی منسوخی کے نوٹیفکیشن کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ ان دستاویزات سے متعلقہ انتظامی کارروائی کی نوعیت واضح ہوتی ہے۔عوامی حلقوں میں اس معاملے پر سامنے آنے والی بحث کے تناظر میں ضروری ہے کہ کسی بھی نتیجے تک پہنچنے سے قبل اصل سرکاری دستاویزات کی تصدیق کی جائے اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کو مستند ریکارڈ کی روشنی میں پرکھا جائے۔
