نئی دہلی (نیوز ایجنسیاں ) نئی دہلی میں پولیس نے پارلیمنٹ سٹریٹ پولیس سٹیشن کے باہر احتجاج
کرنیوالے نیشنل سٹوڈنٹس یونین آف انڈیا کے رہنماوں اورکارکنوں کو حراست میں لے لیا۔گرفتارہونیوالوں میں قومی صدر ونود جاکھڑ، کانگریس سیوا دل کے بی وی سری نواس اور یوتھ کانگریس کے صدر ادے بھانو چِب بھی شامل ہیں۔ نیشنل سٹوڈنٹس یونین آف انڈیا کا کہناہے تنظیم کی خواتین کارکنوں پر مبینہ تشدد کے معاملے پر مقدمہ درج نہ ہونے پردھرنا دیا،دہلی پولیس کی خاتون افسر نے خواتین کارکنوں پر تشدد کیا، شکایت درج کرائے جانے کے باوجود خاتون پولیس افسر کیخلاف مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ این ایس یو آئی کے قومی صدر ونود جاکھڑ کاکہناہے کہ تشدد میں ملوث خاتون پولیس افسر کے خلاف مقدمہ درج نہ کیا گیا تو احتجاجی تحریک کا دائرہ وسیع کر دیا جائے گا۔ دریں اثناء بھارتی پولیس نے نوجوانوں کی جماعت کاکروچ جنتا پارٹی(سی جے پی)کے بانی ابھیجیت دیپکے کو نئی دہلی میں طے شدہ ایک احتجاج سے قبل حراست میں لے لیا۔ غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق ابھیجیت دیپکے کی گرفتاری بھارت کے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبے کے لیے نکالی جانے والی تازہ ترین ریلی سے قبل عمل میں آئی ہے۔سی جے پی کے انسٹاگرام ہینڈل پر نشر ہونے والی لائیو ویڈیو میں دیکھا گیا کہ ابھیجیت دیپکے ایک گھر سے نکل کر سڑک کی طرف جا رہے تھے جب پولیس اہلکاروں نے انہیں روکا اور مختصر بحث کے بعد پولیس کی ایک گاڑی میں بٹھا کر لے گئے۔ ویڈیو میں ایک پولیس افسر کو ابھیجیت دیپکے سے یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ہم آپ کو ابھی حراست میں لے رہے ہیں۔ جس پر ابھیجیت نے سوال کیا کہ میں نے ابھی تک کوئی قانون نہیں توڑا۔۔۔ آپ مجھے کیسے حراست میں لے سکتے ہیں؟خبررساں ایجنسی کے مطابق اس سے قبل آج پولیس نے ابھیجیت دیپکے سے ملاقات کر کے انہیں احتجاج سے باز رہنے کی وارننگ دی تھی۔
