راولپنڈی، کوئٹہ (نیوز ایجنسیاں) سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے اضلاع کوئٹہ، نوشکی اور خضدار میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کر کے بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الہندوستان کے 8دہشت گردوں کو ہلاک کردیا، خضدار میں مسلح افراد نے ماربل فیکٹری پر حملہ کرکے18مزدوروں کو اغوا کرلیا، ایک زخمی بھی ہوا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 17اکتوبر کو پنج پائی میں دہشت گردوں کی سڑک پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش سکیورٹی فورسز نے ناکام بنادی۔سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں بھارتی سرپرستی میں سرگرم 5دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ ان دہشت گردوں کا ٹھکانہ بھی تباہ کردیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق شدید فائرنگ کے تبادلے میں مزید2 دہشت گرد بھی ہلاک ہوئے، اس کارروائی کے دوران اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔علاوہ ازیں خضدار میں آپریشن کے دوران فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا جس میں ایک دہشت گرد مارا گیا، اس آپریشن کے دوران 490 کلوگرام دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔آئی ایس پی آر نے واضح کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسدادِ دہشت گردی مہم جاری رہے گی اور بیرونی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ادھر بلوچستان کے ضلع خضدار کے دور دراز علاقے نال میں ہفتے کی شام نامعلوم مسلح افراد نے ایک ماربل فیکٹری پر حملہ کر کے وہاں کام کرنے والے 18 مزدوروں کو اغوا کر لیا۔ حملے کے دوران ایک مزدور فائرنگ سے زخمی ہوا جبکہ حملہ آور فیکٹری سے دو گاڑیاں اور ایک لوڈر بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ رپورٹس کے مطابق واقعہ خضدار شہر سے تقریباً 35سے 40کلومیٹر دور بیسار پہاڑی کے قریب پیش آیا جہاں نیشنل پارٹی کے سابق صوبائی وزیر سردار اسلم بزنجو اور ان کے بیٹے شاہ میر بزنجو کی ماربل فیکٹری واقع ہے۔ انکے مطابق ہفتے کو رات گئے درجنوں مسلح افراد گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر فیکٹری میں داخل ہوئے اور وہاں موجود مزدوروں کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔ اس دوران ایک مزدور نے فرار ہونے کی کوشش کی تو حملہ آوروں نے اس پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں اسے ٹانگ میں گولی لگی۔زخمی مزدور کی شناخت راشد کے نام سے ہوئی ہے اور طبی ذرائع کے مطابق اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق اغوا ہونے والے مزدوروں کا تعلق خضدار کے مختلف علاقوں سے بتایا جا رہا ہے۔پولیس کے مطابق حملہ آور فیکٹری سے دو گاڑیاں اور ایک لوڈر بھی اپنے ساتھ لے کر فرار ہوگئے، اب تک کسی مسلح گروہ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
دہشت گرد
