اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)سابق وزیر خوراک، ٹیوٹا و کے ڈی اے پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما جاوید اقبال بڈھانوی نے اپنے بیان میں کہاکہ سانحہ کارساز پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک ایسا دردناک اور المناک باب ہے جس کی یاد آج
بھی جمہوریت سے محبت کرنے والوں کے دلوں کو غمگین کر دیتی ہے۔ 18 اکتوبر 2007ء کو کراچی میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے تاریخی استقبال کے موقع پر ہونے والے بم دھماکوں نے سینکڑوں خاندانوں کو سوگ میں مبتلا کر دیا اور ملک کی جمہوری تاریخ پر گہرے نقوش چھوڑے۔انہوں نے کہا کہ سانحہ کارساز کے شہداء کی قربانیاں محض ایک سیاسی جماعت کا اثاثہ نہیں بلکہ پاکستان کی جمہوری تاریخ کا اہم حصہ ہیںان کارکنوں نے اپنی قائد کے استقبال کے لیے گھروں سے نکلتے ہوئے کسی ذاتی مفاد کے بجائے اپنے سیاسی نظریے، جمہوری جدوجہد اور عوامی حقوق سے وابستگی کا اظہار کیا تھاوہ خوشی، امید اور جمہوری مستقبل کے خواب لے کر کراچی کی سڑکوں پر جمع ہوئے، لیکن دہشت گردی کے ایک ہولناک واقعے نے اس تاریخی اجتماع کو ماتم میں بدل دیا۔18 اکتوبر 2007ء کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو تقریباً آٹھ سالہ جلاوطنی کے بعد وطن واپس پہنچی تھیں مگرسانحہ کارساز کے مقام پر ہونے والے دھماکوں نے خوشیوں کو آہوں اور سسکیوں میں بدل دیایہ سانحہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ سیاسی سرگرمیوں میں شریک عام شہریوں اور کارکنوں کی جان و سلامتی کا تحفظ ریاست اور معاشرے کی بنیادی ذمہ داری ہے جمہوریت کے لیے پرامن جدوجہد کرنے والوں کو تشدد کا نشانہ بنانا انسانی اقدار اور شہری آزادیوں کے منافی ہے شہداء کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔جاوید اقبال بڈھانوی نے کہاکہ پیپلز پارٹی کی تاریخ میں جمہوری جدوجہد، سیاسی مشکلات اور قربانیوں کے متعدد ابواب موجود ہیں شہید ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر شہید محترمہ بینظیر بھٹو تک پارٹی کی سیاسی تاریخ پاکستان میں جمہوریت اور عوامی حقوق کے موضوع سے گہرا تعلق رکھتی ہے سانحہ کارساز اس تاریخ کا ایک المناک واقعہ ہے۔سانحہ کارساز ہمیں یہ سبق بھی دیتا ہے کہ قومیں اپنے شہداء کو صرف یاد نہیں کرتیں بلکہ ان کی قربانیوں سے سبق حاصل کرکے اپنے مستقبل کی سمت بھی متعین کرتی ہیں ایک ایسا پاکستان جہاں عوام کو انصاف ملے، شہریوں کی جان و مال محفوظ ہو، سیاسی اختلافات کو برداشت کیا جائے اور عوامی مسائل کو ترجیح دی جائے، شہداء کی قربانیوں کے احترام کا عملی اظہار ہوگا شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور سانحہ کارساز میں جانیں قربان کرنے والے کارکنوں کی یاد پاکستان کی سیاسی تاریخ کا حصہ رہے گی سانحہ کارساز کے شہداء کی قربانیاں جمہوریت کی تاریخ کا ناقابل فراموش باب ہیںشہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنی سیاسی زندگی میں جمہوریت، عوامی حقوق اور وفاق پاکستان کے لیے جدوجہد سانحہ کارساز ہمیں یہ سبق بھی دیتا ہے کہ دہشت گردی کا مقابلہ قومی اتحاد، قانون کی مؤثر عمل داری اور جمہوری اداروں کے استحکام سے کیا جا سکتا ہے۔
