ڈھاکہ (نیوز ایجنسیاں)بنگلہ دیش میں خسرے کی وبا شدت اختیار کر گئی، جہاں رواں سال اب تک 2لاکھ 2ہزار مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں 22ہزار کی لیبارٹری سے تصدیق ہوئی۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق بیماری سے 1,147افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 94فیصد پانچ سال سے کم عمر بچے ہیں۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ویکسی نیشن کی شرح میں کمی، حفاظتی ٹیکوں کی
مہم میں خامیاں اور دور دراز علاقوں تک رسائی نہ ہونے کے باعث وبا پر قابو پانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔عالمی ادار صحت کے مطابق 2025میں خسرے کی ویکسین کی پہلی خوراک کی کوریج 90فیصد اور دوسری خوراک کی 86فیصد تک گر گئی، وبا کی روک تھام کے لئے کم از کم 95فیصد کوریج ضروری ہے۔رواں سال اپریل اور مئی میں تقریباً 2کروڑ بچوں کو ویکسین لگائی گئی، تاہم بعد میں کیسز میں دوبارہ اضافہ ہوا۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بنگلہ دیش کی صورتِ حال دیگر ممالک کے لیے بھی واضح انتباہ ہے کہ حفاظتی ٹیکوں کی شرح میں کمی بچوں کی زندگیوں کے لئے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔
خسرہ
