مظفرآباد (وقائع نگار) محکمہ جنگلات آزاد کشمیر میں مبینہ طور پر کرنٹ چارج، اضافی چارج اور ایڈہاک بنیادوں پر تعیناتیوں کا انکشاف ہوا ہے، جہاں سلیکشن کمیٹی کے طریقہ کار اور سینیارٹی کے اصولوں کو نظرانداز کرتے ہوئے متعدد ملازمین کو اہم عہدوں پر تعینات کیے جانے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ مبینہ بے ضابطگیوں کے باعث محکمہ کے انتظامی امور اور جنگلات کے تحفظ کے نظام پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، جبکہ متعلقہ حکام سے سپریم کورٹ کے فیصلے اور محکمہ کے اپنے جاری کردہ نوٹیفکیشن پر عملدرآمد یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔مبینہ اطلاعات کے مطابق محکمہ جنگلات میں بعض ملازمین کو پراجیکٹس سے نارمل میزانیہ پر منتقل کرنے اور اہم عہدوں پر تعینات کرنے کے عمل میں سفارش اور دیگر غیر شفاف ذرائع استعمال کیے جانے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ رینج آفیسرز، فاریسٹرز اور ڈویژنل فاریسٹ آفیسرز (ڈی ایف اوز) کی سطح پر کرنٹ چارج تعیناتیوں کو محکمہ میں رائج انتظامی طریقہ کار اور میرٹ کے حوالے سے تشویش کا باعث قرار دیا جا رہا ہے۔اس ضمن میں فہد ابرار کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عدالتِ عظمیٰ نے آئندہ تعیناتیوں، تبادلوں اور ترقیوں کو سول سرونٹس ایکٹ کے مطابق عمل میں لانے کی ہدایت کی تھی۔ اسی فیصلے کی روشنی میں محکمہ جنگلات کی جانب سے گریڈ 1 سے 18 تک کرنٹ چارج، ایکسٹرا چارج اور ایڈیشنل چارج کی تعیناتیوں کے خاتمے سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کیے جانے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔ تاہم، متعلقہ حلقوں کے مطابق ان احکامات پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ذرائع کے مطابق گریڈ 18 کی ڈی ایف او پوسٹ پر گریڈ 16 کے ایک افسر کو گزشتہ تین سے چار سال سے کرنٹ چارج بنیادوں پر تعینات رکھا گیا ہے، جبکہ ان کی تعلیمی اہلیت کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اسی طرح رینج آفیسرز کی کرنٹ چارج بنیادوں پر تعیناتیوں کا معاملہ بھی سامنے لایا گیا ہے، جن میں سے ایک افسر کی سینیارٹی پر بھی اعتراض کیا گیا ہے۔مزید برآں، متعلقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ کرنٹ چارج تعیناتیوں کے بجائے بعض مقامات پر ”انچارج” کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے افسران اور اہلکاروں کو اعلیٰ عہدوں پر تعینات کیا جا رہا ہے، جبکہ ان تعیناتیوں میں سینیارٹی اور مقررہ قواعد و ضوابط کی پابندی پر سوالات موجود ہیں۔ ذرائع کے مطابق بعض عارضی انتظامات طویل عرصے تک برقرار رہنے سے محکمانہ ترقیوں اور انتظامی شفافیت کا نظام متاثر ہو رہا ہے۔متعلقہ حلقوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر محکمہ جنگلات میں اعلیٰ عہدوں پر تعیناتیوں کا عمل قواعد و ضوابط اور سینیارٹی کے بجائے عارضی انتظامات کی بنیاد پر جاری رہا تو جنگلات کے تحفظ اور محکمہ کی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد یقینی بنایا جائے، کرنٹ چارج، ایکسٹرا چارج، ایڈیشنل چارج اور انچارج بنیادوں پر ہونے والی تعیناتیوں کا قانونی و انتظامی جائزہ لیا جائے اور جہاں قواعد کی خلاف ورزی ثابت ہو، وہاں ضروری کارروائی عمل میں لاتے ہوئے تعیناتیاں سینیارٹی اور مروجہ قانون کے مطابق کی جائیں۔
