جدہ(بیورو رپورٹ )پاکستان قونصلیٹ جنرل، جدہ میں گزشتہ سے پیوستہ روز مظلوم کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ‘یومِ سیاہ کشمیر’ (Kashmir Black Day) کے طور پر منانے کے لیے ایک پروقار تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس میں جدہ میں مقیم پاکستانی اور کشمیری برادری کے ممتاز افراد سمیت سعودی عرب کی اہم اور سرکردہ شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب کے آغاز میں صدرِ پاکستان، وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ کے خصوصی پیغامات پڑھ کر سنائے گئے،تقریب سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے قونصل جنرل برائے جدہ، سید مصطفی ربانی اور او آئی سی (OIC) میں پاکستان کے سفیر، سید محمد فواد شیر نے سفارتی محاذ پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ قونصل جنرل سید مصطفی ربانی نے کشمیر کے منصفانہ موقف پر ‘تنظیمِ تعاونِ اسلامی’ (OIC) اور سعودی حکومت کی مسلسل اور مخلصانہ حمایت کو زبردست الفاظ میں سراہا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔ مقررین نے اس دن کی تاریخی اہمیت پر زور دیتے ہوئے مقبوضہ وادی میں بھارتی قابض افواج کے مظالم، بالخصوص 5 اگست 2019 کے یکطرفہ اقدامات کے بعد کے سنگین واقعات کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے بھارتی ظلم و ستم کے خلاف کشمیریوں کی لازوال قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستانی قوم کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت اس وقت تک جاری رکھے گی ۔کشمیر کے مقصد کے ساتھ منفرد انداز میں یکجہتی کے اظہار کے طور پر، تقریب میں ڈاکٹر طلحہ الکشمیری کی تصنیف کردہ کتاب بین شجارِ الجنار (چنار کے درختوں کے درمیان) کی باقاعدہ رونمائی کی گئی۔ یہ کشمیر کے موضوع پر عربی زبان میں لکھا گیا دنیا کا پہلا ناول ہے، جس میں مسئلہ کشمیر کو انسانیت، محبت، ثقافت اور کشمیر کے حسن کی زبان میں انتہائی خوبصورتی سے سمویا گیا ہے۔ سعودی عرب میں مقیم کشمیری نژاد پاکستانی مصنف نے اس منفرد ادبی شاہکار کو تخلیق کرنے کے اپنے تجربات شیئر کیے اور اس کی اشاعت کو ممکن بنانے پر کشمیر کمیٹی جدہ اور کشمیری برادری کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب کا اختتام مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی آزادی، شہدا کے درجات کی بلندی اور وادیِ کشمیر کی جلد آزادی کے لیے کی جانے والی خصوصی اجتماعی دعا پر ہوا۔