راولپنڈی(شاہد ملک سے) پنجاب حکومت نے صوبے بھر کے سرکاری تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی کارکردگی، حاضری، تدریسی معیار اور طلبہ کی تعلیمی سرگرمیوں کی نگرانی مزید سخت کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ محکمہ اسکول ایجوکیشن پنجاب نے صوبے کے تقریبا 60 ہزار 15 اسکولوں کو جدید ڈیجیٹل مانیٹرنگ نظام کے تحت لانے کے لیے نئے احکامات جاری کر دیے ہیں، جس کے تحت سرکاری اسکولوں کے ساتھ پنجاب ایجوکیشن فانڈیشن (PEF) اور پنجاب ایجوکیشن انیشی ایٹوز مینجمنٹ اتھارٹی (PEIMA) کے تحت چلنے والے اسکول بھی شامل ہوں گے۔محکمہ اسکول ایجوکیشن کی جانب سے جاری نئی ہدایات کے مطابق 2 نومبر 2026 سے انٹیگریٹڈ یونیفائیڈ مانیٹرنگ ایپ (Integrated Unified Monitoring App) کے ذریعے اسکولوں کی نگرانی کا مربوط نظام فعال کر دیا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسرز (AEOs) کو اپنے متعلقہ مراکز کے ہر اسکول کا ماہانہ کم از کم ایک مرتبہ دورہ کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ ہر ورکنگ ڈے میں کم از کم ایک اسکول کا دورہ بھی ضروری ہوگا۔محکمہ تعلیم نے واضح کیا ہے کہ اسکولوں کے دوروں اور معائنے کا ریکارڈ صرف مقررہ موبائل ایپ کے ذریعے ہی قابل قبول ہوگا۔ ایپ میں درج نہ ہونے والے دوروں کو سرکاری مانیٹرنگ ریکارڈ میں شمار نہیں کیا جائے گا۔ اگر کسی افسر کے پاس مقررہ ماہانہ معائنے مکمل کرنے کے بعد مزید ورکنگ ڈیز دستیاب ہوں تو وہ اسکولوں کے دوبارہ دورے بھی کر سکے گا۔اساتذہ کی کارکردگی اور تعلیمی معیار کی جانچ نئے ڈیجیٹل نظام کے تحت اسکولوں میں اساتذہ کی حاضری، کلاس روم میں تدریسی سرگرمیوں، طلبہ کی تعلیمی پیش رفت، تعلیمی جائزوں، داخلوں کی صورتحال اور اسکولوں میں دستیاب بنیادی سہولیات کی نگرانی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ کلاس رومز کی دستیابی، عمارتوں کی حالت اور دیگر تعلیمی ضروریات کا ریکارڈ بھی ڈیجیٹل نظام میں مرتب ہوگا۔اس اقدام کا مقصد صرف اساتذہ کی حاضری چیک کرنا نہیں بلکہ تعلیمی اداروں میں تدریس کے معیار کو بہتر بنانا، طلبہ کی تعلیمی کارکردگی کا جائزہ لینا اور اسکولوں میں موجود مسائل کی بروقت نشاندہی کرنا ہے۔محکمہ اسکول ایجوکیشن نے تمام اضلاع کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز کو نئے مانیٹرنگ نظام پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ اس نظام کے تحت اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسرز کی جانب سے ایپ پر جمع کروائی جانے والی رپورٹس کو ضلعی تعلیمی اتھارٹیز کا سرکاری مانیٹرنگ ریکارڈ تصور کیا جائے گا، جبکہ مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن اسسٹنٹس (MEAs) کی رپورٹس کو تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔مزید برآں اضلاع کی کارکردگی کی درجہ بندی بھی ایپ پر ریکارڈ ہونے والے اسکول وزٹس اور مقررہ کارکردگی کے اشاریوں کی بنیاد پر کی جائے گی۔ احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے والے متعلقہ افسران کے خلاف محکمانہ جواب دہی اور کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔دوسری جانب ضلع چکوال کے سرکاری اسکولوں کے حوالے سے بھی یہ نیا نظام خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔راولپنڈی سمیت دیگر علاقوں کے تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی حاضری، تدریسی معیار، طلبہ کی تعداد اور بنیادی سہولیات کی مانیٹرنگ اس نظام کے تحت کی جائے گی۔راولپنڈی سمیت دیگر علاقوں کے شہریوں اور تعلیمی حلقوں کی جانب سے بھی یہ توقع کی جا رہی ہے کہ ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے ذریعے اسکولوں میں اساتذہ کی غیر حاضری، تدریسی مسائل، کلاس رومز کی کمی، بنیادی سہولیات کے فقدان اور دیگر تعلیمی مسائل کی نشاندہی ممکن ہو سکے گی۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ صرف اسکولوں کے دورے اور رپورٹس مرتب کرنا کافی نہیں بلکہ جن اداروں میں اساتذہ کی کمی، پینے کے صاف پانی، واش رومز، فرنیچر اور دیگر بنیادی سہولیات کے مسائل موجود ہیں، انہیں بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جانا چاہیے تاکہ راولپنڈی سمیت پنجاب بھر کے سرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیم کا معیار بہتر بنا یا جاسکے۔
