Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • تھانہ سول لائنز گوراقبرستان میں چور کیبل چوری کرتے ٹریکٹر سمیت گرفتار
    • راولپنڈی،2 منشیات سپلائر گرفتار 3 کلو سے زائد چرس برآمد
    • پشاور:کے پی گورنر فیصل کریم کنڈی اینٹی انکروچمنٹ کارروائیوں کو کنڈی گھڑی قمر دین میں کھڑے دیکھ رہے ہیں۔
    • پولیس کی جوئے کے اڈے پر ریڈ، 5 ہزار 140 نقدی ایک گاڑی 2 موبائل فون برآمد، ملزم گرفتار، مقدمہ درج
    • اسپیلنگ بی مقابلے کا جی آر-6 کیمپس میں کامیاب انعقاد
    • تھانہ بنی پولیس کی کارروائی، معمولی تلخ کلامی پر شہری کو زخمی کرنیوالا ملزم گرفتار
    • مری میں لین دین کے تنازع پر چھری کے وار سے ایک شخص زخمی
    • سی سی ڈی چکوال کی کارروائی، ڈکیتیوں میں ملوث ملزما ن گرفتار
    • گیارہویں جماعت کے طالبعلم ساتھ مبینہ بدفعلی کی کوشش
    • تھانہ جاتلی، 6 سال پرانا اغوا کا کیس ٹیکنیکل بنیادوں پر حل، مغویہ بازیاب جاتلی
    • بنگلہ دیشی ثقافتی وفد کے اعزاز میں پاکستانی فنکاروں کا خصوصی ثقافتی فن کا مظاہرہ
    • گوجر خان چیف افیسر بلدیہ اختر اسلام کی تعیناتی کے احکامات چند گھنٹوں بعد منسوخ
    • ایس پی سکیورٹی اصغر علی گورائیہ پولیس لائنزہیڈ کوارٹرز میں کھلی کچہری کے دوران شہریوں کے مسائل سن رہے ہیں ۔
    • CDAکی سیکٹر ای بارہ میں کارروائی،اربوں کی 1,133کنال اراضی واگزار کروالی
    • گوجر خان پولیس کی کارروائی، منشیات فروش گرفتار گوجر خان
    • فتح جنگ1996میں میٹرک کرنے والے طلباء کا گروپ فوٹو۔
    • راولپنڈی کینٹ بورڈ کے مختلف علاقوں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر پڑے ہیں ۔
    • پاکستان اور امریکہ تجارت اور ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھا سکتے ہیں،سردا ر مسعود
    • کامسیٹس نے تقریب میں بہترین اساتذہ کو اعزاز سے نوازا
    • ریکٹر یو آئی ،پروفیسر ڈاکٹر فہد منیر عباسی کو سند پیش کرتے ہوئے ،رجسٹرار ڈاکٹر فہیم اے قریشی ودیگر بھی موجود ہیں ۔
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    تلاش

    By Daily Khabrainاگست 25, 2018
    Share Facebook Twitter Email WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    سجاد جہانیہ…. دیکھی سُنی
    بہت دنوں کی بات ہے‘ اتنے بہت سارے دن کہ اب اگر شمار کرنا چاہوں تو نہ کرسکوں۔ تب بڑا ہی سکون واطمینان تھا اور یکسوئی۔ یہ تب کی بات ہے جب مجھے یہ بھی پتہ نہ تھا کہ شمار کرنا کیا ہوتا ہے۔ میں نہیں جانتا تھا کہ گنتی کسے کہتے ہیں اور تعداد کیا ہوتی ہے۔
    دنوں کا تعلق وقت سے ہے نا‘ جب وقت کا ہی پتہ نہ تھا تو دنوں کا اور ان کو شمار کرنے کا کیا سوال۔۔؟ بس وہ کوئی ایسی جگہ تھی جہاں وقت نام کی کوئی شے نہ تھی۔ نہ صبح تھی‘ نہ شام‘ نہ رات‘ نہ دوپہر۔ نہ سورج‘ نہ چاند‘ نہ تارے‘ نہ ان کے طلوع وغروب کا جھنجٹ۔ یہ زمین بھی تو نہ تھی جس کی پیٹھ پر ہمیں وقت کی زنجیروں سے باندھ کے ڈال دیا گیا ہے۔ پتہ نہیں کیا مقام تھا اور کون سا دیار۔ ہم بہت سے تھے‘ بہت ہی زیادہ مگر سب اِک دوجے کے قریب‘ اِک دوسرے کو دیکھ سکتے تھے‘ محسوس کرسکتے تھے۔ کوئی اوٹ تھی نہ کوئی دوری۔ ہر ایک یکساں نزدیکی پر تھا اور یکساں دوری پر۔
    نہ ہم کھاتے پیتے تھے‘ نہ کوئی لڑائی جھگڑا تھا۔ نہ ملکیت تھی نہ مال وزر۔ لڑائی کی بنیاد پیٹ کی بھوک ہوا کرتی ہے اور یہی مال وزر وجنس‘ تو ان میں سے کچھ بھی نہ تھا۔ کوئی بے مقام سا قفس تھا جہاں ایک بھینی بھینی روشنی پھیلی رہتی تھی۔ ایک اُجالا‘ جو نہ دھیما تھا نہ تیز مگر بڑا ہی معتدل۔ وہاں کوئی سمت بھی نہ تھی۔ نہ دایاں‘ نہ بایاں‘ نہ آگا‘ نہ پیچھا‘ نہ اوپر نہ نیچے۔ اس لئے کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ روشنی کس سمت سے آتی تھی۔ بس یوں جانو کہ اس روشنی میں ہی تو ہم رہتے تھے‘ وہی تو ہمارا قفس تھا‘ آشیاں وٹھکانہ۔
    کتنی آسودگی تھی وہاں اس قفس میں۔۔! سکون‘ سکوت‘ ٹھہراو¿ اور ایک بے شکل اور گہرا اطمینان۔ نہ فکر‘ نہ فاقہ‘ نہ خوشی‘ نہ غم۔ ایک یکسوئی تھی‘ کامل واکمل یکسوئی۔
    تم بھی تو وہیں تھیں۔ تمہیں یاد نہیں آرہا؟ ہاں! میں جانتا ہوں نہیں یاد آئے گا تمہیں۔ بوجھ سے جو لاد دی گئی ہو‘ مادے کی بوجھل کثافت سے۔ میری‘ تمہاری لطافت چھین کے بوجھ اُٹھانے والا جانور بنا دیا گیا ہے۔ پھرتے رہیں گے اب یہ بار اُٹھائے اُٹھائے۔ اسی کثافت نے تمہاری یادداشت سلب کرلی ہے‘ تمہاری حرکت روک دی ہے۔ تمہیں وقت میں اور مقام میں قید کردیا گیا ہے۔ اس قید سے اور اس بوجھ سے چھوٹو گی تو سب یاد آجائے گا۔
    ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ یہ بہت دنوں کی بات ہے‘ جہاں میں تھا اور تم تھیں۔ وہاں بڑا سکون واطمینان تھا اور یکسوئی۔ پھر مجھے مادے میں گوندھنے کی تیاری ہونے لگی۔ میں وہاں سے نہیں آنا چاہتا تھا۔ ایک ندا کی زبانی مجھے بتایا گیا کہ تمہارے بہت سے ساتھی تمہیں وہاں ملیں گے جہاں تم جارہے ہو۔ وہ‘ جن کے ساتھ تم بہت مانوس تھے اور جن کے جانے پر تم اُداس تھے۔ ان میں سے فلاں تمہاری ماں کے روپ میں منتظر ہے‘ فلاں باپ‘ بھائی‘ بہن‘ دوست کی شکل میں تمہارا انتظار کرتے ہیں۔
    مجھے کچھ ڈھارس ہوئی میں اپنے پیاروں کے تصور میں کھو گیا تھا۔ پھر یکایک مجھے اس کا خیال آیا اور میں کانپ کے رہ گیا۔ اس بے شکل مگر مکروہ کردار کا۔ وہ جس کی موجودگی کے احساس نے مجھے پہلی مرتبہ خوف کے جذبے سے آشنا کیا تھا۔ اس کی موجودگی مجھے اذیت میں رکھتی تھی۔ میں نے پوچھا ”وہ….وہ بھی تو وہیں ہوگا“ مگر جواب میں کوئی ندا نہ آئی۔ کامل سکوت تھا اور خامشی۔ میں سسکتا رہا‘ بلکتا رہا مگر مجھے ایک اندھیرے گنبد کی دیوارسے چپکے لوتھڑے میں اُتار دیا گیا۔
    یہاں میری شناسائی وقت سے ہوئی۔ میں نے وقت کو خود پر جھیلا۔ یہاں سب کچھ تھا۔ رشتے‘ ناطے‘ محبت‘ نفرت سب کچھ مگر سکون نہ تھا‘ یکسوئی نہ تھی جو وہاں ہوا کرتی تھی۔ وہاں‘ جہاں میں تھا اور تم تھیں۔ اس سکون کے لئے میں نے کیا کیا جتن نہیں کئے۔ محل کی آسائشیں چھوڑیں اور بھوک سے لڑا۔ دریاو¿ں کے یخ پانیوں میں بگلے کی طرح ایک ٹانگ پر کھڑا رہا۔ مجھ سے پہلے والوں نے صدیوں کی ریاضت کے بعد غار‘ پہاڑ کی زندگی سے پیچھا چھڑواکر مدنیت اختیار کی تھی‘ میں یہ سب چھوڑ پھر سے پہاڑوں‘ جنگلوں میں بھٹکتا رہا۔ لمبے چوغے پہن کر پیہم تین تین دن تک گول گول گھومتا رہا۔ پیروں میں گھنگھرو باندھ کے ناچتا رہا مگر یکسوئی نہ ملی‘ اس بے کلی سے نروان نہ ملا‘ اطمینان قلب میسر نہ ہوا۔
    پھر تم مجھے آن ملیں۔ مجھے ایسا لگا کہ میری ذات کی تکمیل ہوگئی۔ وہ جو ایک بے شکل کا خلا تھا وہ پُر ہوگیا۔ بے کلی کے جھکڑوں سے نجات ہوئی اور آسودگی کی ہوائیں اٹکھیلیاں کرنے لگیں۔ مگر یہ کیفیت بھی عارضی تھی‘ مختصر اور قلیل۔ پھر جب ہمارا آنگن پھولوں اور کلیوں سے مہکنے لگا تو تمہیں ان کی آبیاری کی ایسی پڑی کہ میں پھر سے تنہا ہوگیا۔ کیوں نہ ہو‘ تمہارا اتم روپ ماں کا جو ہے۔
    ہاں۔۔۔! ماں سے یاد آیا‘ وہاں جو بھینی بھینی روشنی تھی‘ وہ جس کی سمت کا پتہ نہ چلتا تھا اورجس میں ہم رہتے تھے‘ اس میں ماں کی آغوش کی سی آسودگی تھی۔ اس تاریک گنبد کی فضاو¿ں میں رچے بسے تحفظ کا سا احساس۔
    خیر! پھر ایک دن وہ میری زندگی کے دائرے میں آن داخل ہوا۔ وہی جس کی موجودگی کے احساس نے مجھے خوف کی محسوسات سے آشنا کیا تھا۔ اس کے در آنے سے زندگی اور اذیت ناک ہوگئی تھی۔ اسے نہ رشتوں کے تقدس کا خیال تھا نہ انسانی دانش کی صدیوں کے تجربات کے بل پر طے کی گئی اخلاقی اقدار کا۔ پھر ایک دن اس نے مجھے مار ڈالا۔ اتنی اذیت اور تکلیف برداشت کرنے کے بعد میرا خیال تھا کہ میں ”گھر“ کو لوٹ آیا ہوں‘ اب یہاں کامل سکون اور یکسوئی ہوگی۔ مگر یہ تو کوئی اور ہی جگہ ہے۔
    گو کہ یہاں بھی نہ مادے کا وجود ہے اور نہ مکاں کا۔ مجھ سے پہلے والے بھی یہاں موجود ہیں۔ ہم بہت سے ہیں‘ بہت ہی زیادہ مگر سب اک دوجے کے قریب‘ اک دوسرے کو دیکھ سکتے ہیں‘ محسوس کرسکتے ہیں۔ کوئی اوٹ ہے‘ نہ کوئی دوری۔ ہر ایک یکساں نزدیکی پر ہے اور یکساں دوری پر۔ مقام ویسا ہی ہے مگر یہاں وہ آسودگی نہیں۔ ہر ایک سہما ہوا ہے‘ خوف زدہ۔ کہتے ہیں کہ جو زندگی گزار کے آئے ہو ابھی اس کا حساب ہونا ہے۔ سب کچھ پوچھا جائے گا‘ مواخذہ ہوگا۔ اس زندگی کا حساب جس میں اُترتے ہوئے ہماری مرضی شامل نہ تھی۔
    وہ بہت دن پہلے والی یکسوئی نہیں ہے‘ بے کلی ہے۔ سکون کی اور اطمینان قلب کی سب سے بڑی دُشمن یہی دوئی ہے۔ ”میں کام یاب رہوں گا یا ناکام“، ”یہ جو میں کررہا ہوں درست ہے یا غلط“ وغیرہ وغیرہ۔ یہاں بھی سب اسی دوئی کا شکار ہیں۔ منتشر خیالی ہے‘ اندازے ہیں اور تخمینے۔ یہی کچھ تو وہاں تھا‘ اس زندگی میں جہاں میں نروان اور فکری آسودگی کی تلاش میں رہا۔ یہاں بھی وہی فکر کی دوئی۔۔!!
    تیرے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا
    (کالم نگارسیاسی وادبی امورپرلکھتے ہیں)
    ٭….٭….٭

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      ون ڈے ٹرائی سیسریز کی رونمائی تینوں کپتاننوں کا فوٹو شوٹ

      محمد عباس کی کمٹیٹر کی گاڑی کے تائر میں ہوا بھرواتےویڈیو وائرل

      پاکستان کے طارق پرویز نے عالمی اسکریبل ایکسیلینس ایوارڈ جیت لیا

      تازہ ترین

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      باجوڑ میں موبائل سروس و انٹرنیٹ بند شہریوں کو مشکلات کا سامنا

      گورنر راج اور ایمرجنسی مسئلے کا حل نہیں حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے:حافظ نعیم

      ریاض حملے کے بعد حوثیوں کی نئی دھمکی، سعودی ایئرپورٹس استعمال نہ کرنے کی وارننگ

      * رابطوں کے باوجود پی ٹی آئی کی خاموشی، محسن نقوی کے اہم انکشافات

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.