گوجرخان( محمد عامر قریشی)چیف گوجر خان چیف افیسر بلدیہ اختر اسلام کی تعیناتی کے احکامات چند گھنٹوں بدع نبسوخ بلدیہ گوجرخان غلام قمر وڑائچ کے دو روز قبل تبادلے اور ان کی جگہ اختر اسلام کی تعیناتی کے احکامات جاری کیے گئے، تاہم ذرائع کے مطابق اختر اسلام ابتدائی طور پر چارج نہ سنبھال سکے اور دو روز گزرنے کے بعد آج بروز پیر باقاعدہ جوائننگ کی، لیکن تعیناتی کے چند گھنٹوں بعد ہی ان کے تبادلے کے احکامات منسوخ کردیے گئے۔ تبادلے، تعیناتی اور پھر احکامات کی منسوخی کے اس تیز رفتار سلسلے پر شہری حلقوں نے حیرت کا اظہار کیا ہے۔ چند روز قبل غلام قمر وڑائچ کے تبادلے کے احکامات سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس میں یہ معاملہ زیرِ بحث رہا اور مختلف حلقوں کی جانب سے اس پر اظہارِ خیال کیا گیا۔ اب اختر اسلام کی تعیناتی کے احکامات کی منسوخی کے بعد چیف آفیسر بلدیہ کا تبادلہ ایک بار پھر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ دوسری جانب مقامی سیاسی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا اس معاملے کا تعلق مسلم لیگ (ن) کی مقامی قیادت کے درمیان جاری اختلافات اور گروپ بندی سے ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ شہری حلقوں میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مقامی سطح پر سیاسی اختلافات اور تقرریوں و تبادلوں کے معاملات پر کشمکش سے مسلم لیگ (ن) کو سیاسی نقصان پہنچ سکتا ہے اور گروپوں کے درمیان فاصلے مزید بڑھ سکتے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی اعلی قیادت کو گوجرخان میں جاری گروپ بندی اور اختلافات کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، تاکہ صورتحال مزید پیچیدہ ہونے سے بچ سکے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ چیف آفیسر بلدیہ کی تعیناتی کے حوالے سے نئے احکامات جاری ہوتے ہیں یا موجودہ صورتحال برقرار رہتی ہے۔
