ملک محمد حسین ….خاص مضمون
فرقہ وارانہ مذہبی گروہ ہمارے معاشرے کی حقیقت ہیں۔ سلفی ، دیوبندی، بریلوی، شیعہ اور ان مین سٹریم فرقوں کے ذیلی گروہ جوہر گاو¿ں ، محلہ اور مسجد کی بنیاد پر موجود ہیں، اپنا اثر و رسوخ رکھتے ہیں، پیران کرام اور مشائخ عظام بھی اپنے وسیع حلقہ اثر کی وجہ سے سیاسی قوت کا اظہار کرنے سے پیچھے نہیں رہتے۔ ان انتخابات میں بھی دیکھا گیا کہ سب بڑی سیاسی جماعتوں نے علماءکرام اور مشائخ عظام کے کنونشن منعقد کئے، سیاسی جماعتیں اپنے مقاصد کی خاطر اور نادیدہ قوتیں قومی مفاد کی خاطر مذہبی فرقہ واریت کو ہوا دیتی رہتی ہیں اور پھر انہیں معاشرے میں توازن لانے کی خاطر استعمال کرتی ہیں، آئے دن مذہبی گروہ بندی میں اضافہ اور معاشرتی انتشار کا پھیلاو¿ بڑھتا جارہاہے ، اس کی وجہ ایک طرف مذہبی گروہوں کا مفاداتی مسئلہ ہے تو دوسری طرف متعدد سیاسی و غیر سیاسی قوتوں کا عمل دخل بھی ہے ۔ انتخابی سیاست میں فرقہ واریت کا سب سے زیادہ نقصان جماعت اسلامی اٹھاتی ہے جبکہ سب سے زیادہ فائدہ جمعیت علماءاسلام کے حصہ میں آتا ہے ، اب اگر تحریک لبیک والوں کو پذیرائی حاصل رہی تو شاید بریلوی حضرات کا یہ گروہ قابل ذکر سیاسی گروہ بن جائے ۔ ملی مسلم لیگ جماعت الدعوة والوں کا نیا چہرہ ہے ، یہ گروہ بقول حافظ سعید گلی کوچوں تک نظر یہ پاکستان کا پیغام عام کرتا رہے گا لیکن کوئی سیاسی کامیابی بھی حاصل کرے اس کا کوئی امکان نظر نہیں آتا ، ہمارے شیعہ بھائی موثر پریشر گروپ تو ہیں اور ایک سیاسی لابی بھی بناتے ہیں لیکن بوجوہ موثر سیاسی قوت نہیں بن سکے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ سب مذہبی فرقے اور ان فرقوں کے ماننے والے اپنی اپنی سیاست مین سٹریم سیاسی جماعتوں میں شامل ہوکر قومی مفاد کے پروگراموں کو سامنے رکھ کر کریں اور فرقہ واریت کے نعروں سے اجتناب کریں، اسلام کا حُسن اتفاق میں ہے انتشار میں نہیں۔ اگر یہ ممکن ہو تو پارلیمنٹ قانون سازی کے ذریعے فرقہ واریت پر مبنی سیاست اور سیاسی نعروں کو ممنوع قرار دے، سچ بات تو یہ ہے کہ 1973ئکے آئین کے نفاذ کے بعد سے مذہبی سیاست کی سرے سے کوئی گنجائش ہی نہیں ہے ، جب مان لیا گیا کہ ریاست کا مذہب اسلام ہے ، اقتدار اعلیٰ کا مالک اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ، ملک کا کوئی قانون قرآن و سنت کی تعلیمات کے برعکس نہیں بن سکتا تو جواب کرنے کا کام ہے وہ یہ ہے کہ آئین کی ان شقوں پر عمل کیا جائے ، عمل کرانے والے دیانتدار اعمال کیلئے تعلیم و تربیت اور تزکیہ نفس کے ذریعے انسان سازی کی جائے اور ملک میں قرآن و سنت کی حکمرانی قائم کی جائے، اس کیلئے علمائے کرام اور مشائخ عظام خود سیاست میں کودنے کی بجائے مقتدر سیاسی جماعتوں کیلئے پریشر گروپ کا کام کریں اور ہیئت مقتدرہ کو مجبور کریں کہ وہ آئین پاکستان پر حقیقی روح کے مطابق عمل کریں۔اگرچہ تینوں مین سٹریم سیاسی جماعتیںیعنی پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی اپنی اٹھان کے لحاظ سے لبرل سکیولر جماعتیں ہیں لیکن پی ٹی آئی جس طرح پچھلے چھ سات سالوں میں ابھر کر سامنے آئی ہے اس سے اس کا لبرل سیکولرچہرہ زیادہ نمایاں ہوا ہے ، یوتھ اور خواتین کی پسندیدگی کی زیادہ وجہ بھی پی ٹی آئی لبرل چہرہ ہے ۔سابقہ حکومت نے ایک مثبت کام یہ کیا کہ سکولوں میں قرآن اور ترجمہ قرآن کی تعلیم لازمی قرار دی، خیبرپختونخوا کی پی ٹی آئی کی حکومت نے بھی اپنے صوبے میں اسے نافذ کیا، یہ کام اگر پورے ملک میں موثر طریقے سے ہو جائے تو لبرل ازم کے سامنے بند باندھا جاسکتا ہے ۔ کاش جماعت اسلامی ، جمعیت علماءپاکستان اور جماعت الدعوة سب کام چھور کر اس نیک کام میں حکومت کی معاون بن جائیں تو معاشرے میں خیر کثیر کی توقع کی جاسکتی ہے ۔یہ کہ جماعت اسلامی کو جو چیلنج آج درپیش ہے وہ یہ نہیں ہے کہ چھوٹی موٹی لیپا پوتی کر لی جائے ، کوئی رسمی سی کمیٹی کمیشن بناکر اس سے ادھر ادھر کی چھوٹی موٹی تجاویز لے لی جائیں اور داخل دفتر کردی جائیں اور پھر کاروبار زندگی جیسا چل رہا ہے ویسا ہی چلتا رہے، اگر یہی ہونا ہے ( اور جو کچھ نظر آرہاہے اس سے بہت سے لوگوں کو خدشہ ہے کہ یہی ہوگا ) تو جس جماعت کو ہم آج کہہ رہے ہیں کہ و ہ زوال پذیر ہے وہ کل کو ختم ہو جائیگی جیسے تحریک خاکسار ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے ختم ہوگئی اور آج اس پر رونے والا بھی کوئی نہیں ، یاد رہے کہ نظریاتی جماعتوں کو حکومتیں اور ایجنسیاں ختم نہیں کرسکتیں وہ داخلی فکری تضادات کی وجہ سے ختم ہوتی ہیں، لہٰذا آج جماعت کو جو چیلنجز درپیش ہیں وہ نشاة ثانیہ سے کم درجے کی کوئی چیز نہیں جس کے لئے ضروری ہے کہ اس کی فکر اور دستور پر نظر ثانی کی جائے، جماعت کی فکر اور دستور کوئی صحیفہ آسمانی نہیں ہے جسے تبدیلی کی نیت سے چھونا گناہ ہو بلکہ یہ انسانی کاوش ہیں، اجتہادی کاوش ہیں اور ان پر نظر ثانی تقاضائے وقت ہے ، اور یہ تو جماعت اسلامی کی خوش قسمتی ہے کہ اس کا بانی خود اس کی فکر پر نظر ثانی کرچکا ہے ، لہٰذا اسے ہمہ شمہ کا منہ دیکھنے کی ضرورت نہیں، صرف اخلاص و دیانت اور راست فکری کی ضرورت ہے اور مولانا مودودی مرحوم کی نظر ثانی شدہ رائے پر عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔ (ختم شد)(بشکریہ:ماہنامہ البرہان)٭….٭….٭
