Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • یکم جولائی سے سرکاری دفاتر میں نیا قانون نافذ
    • ایک لیٹر میں ’’900 کلومیٹر‘‘ سے زائد سفر کرنے والی حیرت انگیز کار ایجاد
    • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
    • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کے نکاح فوٹو شوٹ کی دلکش تصاویر وائرل
    • شادی کے چند گھنٹوں بعد ہی نوبیاہتا جوڑے کا ہیلی کاپٹر تباہ، شوہر ہلاک ہوگیا
    • آم کی پیداوار اور برآمدات، پاکستان کو بڑا دھچکا
    • ایران کا امریکہ کے ساتھ تمام مذاکرات ختم کرنے کا اعلان آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے فیصلہ
    • آج سے پنجاب بھر میں مارکیٹ شاپنگ مال بازار رات 8 بجے بند نو ٹیفیکیشن جاری
    • سرک جزیرے پر امریکی بمباری کا جواب کویت میں امریکی اڈوں پر ڈراون حملہ ایران کا دعوی
    • امریکا سے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، عباس اراغچی
    • امریکی کانگریس اسرائیل سے فوجی تعلقات کو گہرا کرنے کے لیے آگے بڑھ رہی ہے
    • علیزے شاہ کی دنانیر مبین سے متعلق وضاحت یا تنقید؟
    • بھارت تنہائی سے بچنے کیلئے پاکستان کی برکس میں شمولیت کی حمایت کرے: بھارتی دفاعی تجزیہ کار
    • جیل میں ہونے کے باوجود انمول پنکی کی منشیات کی ڈبیہ کی بچوں کے پاپڑ میں سپلائی ! بڑے انکشافات سامنے آگئے
    • یوٹیوب کا اے آئی سے بنائے گئے مواد کی نشاندہی کیلئے اہم اقدام
    • طلاق یافتہ کرکٹر نے میری خوبصورتی کی تعریف کی، میں نے بلاک کر دیا: ’تارک مہتا کا الٹا چشمہ’ کی ادکارہ کا دعویٰ
    • اب مارکیٹس، شاپنگ مالز کب تک کھلیں گے؟ کاروباری اوقات کا نیا نوٹیفکیشن جاری
    • آئی ایم ایف کا دباؤ مسترد، حکومت کا سیلز ٹیکس کی شرح بڑھانے سے انکار
    • ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں اضافہ، گھریلو سلینڈر 3643 روپے کا ہوگیا
    • اسرائیل کے حملوں سے لبنان کے تاریخی مقامات کو نقصان
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی انتقال کر گئے

    By Daily Khabrainدسمبر 2, 2020
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    راولپنڈی: (دنیا نیوز) پاکستان کے سابق وزیراعظم اور بزرگ سیاستدان میر ظفر اللہ جمالی انتقال کر گئے۔ ان کے صاحبزادے نے والد کے انتقال کی تصدیق کر دی ہے.

    سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ جمالی کو چند دن قبل دل کا دورہ پڑنے پر ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ طبیعت زیادہ خراب ہونے کی وجہ سے انہیں وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا تھا۔ چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ جمالی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کے اہلخانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ مرحوم وضع دار سیاست دان تھے۔ ان کی سیاسی اور قومی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ملک ایک اصول پرست اور جمہوری رہنما سے محروم ہو گیا ہے۔

    واضح رہے کہ ظفر اللہ جمالی پاکستان کے 15ویں وزیراعظم رہ چکے ہیں۔ وہ یکم جنوری 1944ء کو بلوچستان کے ضلع نصیر آباد کے گاؤں روجھان جمالی میں پیدا ہوئے۔

    انہوں نے ابتدائی تعلیم روجھان جمالی میں ہی حاصل کی۔ بعد ازاں سینٹ لارنس کالج گھوڑا گلی مری، ایچیسن کالج لاہور اور 1965ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے تاریخ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔

    ظفر اللہ جمالی صوبہ بلوچستان کی طرف سے اب تک پاکستان کے واحد وزیر اعظم تھے۔ انھیں انگریزی، اردو، سندھی، بلوچی، پنجابی اور پشتو زبان پر عبور حاصل تھا۔

    میر ظفر اللہ جمالی کی پہچان ایک سنجیدہ اور منجھے ہوئے سیاست دان کی رہی۔ وہ روایات کے پابند تھے جن میں دوستی اور تعلقات نبھانا اور دوسروں کو ساتھ لے کر چلنا شامل ہے۔

    1970ء کے انتخابات میں صوبائی اسمبلی کے امیدوار کھڑے ہوئے لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ 1977ء میں بلا مقابلہ صوبائی اسمبلی کے ارکان منتخب ہوئے اور صوبائی وزیر خوراک اور اطلاعات مقرر کیے گئے۔ 1982ء میں وزیر مملکت خوراک و زراعت بنے۔ 1985ء کے انتخابات میں نصیرآباد سے بلا مقابلہ قومی اسمبلی کے ارکان منتخب ہوئے۔ 1986ء میں وزیر اعظم محمد خان جونیجو کی کابینہ پانی اور بجلی کے وزیر رہے۔

    29ء مئی 1988ء کو جب صدر جنرل محمد ضیاء الحق نے جونیجو حکومت کو برطرف کیا تو انہیں وزیر ریلوے لگادیا۔ 1986ء کے انتخابات میں صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشست پر منتخب ہوئے۔

    قومی اسمبلی کی نشست سے مستعفی ہو گئے اور صوبائی اسمبلی کے ارکان بنے۔ 1988ء میں وہ بلوچستان کے نگران وزیر اعلیٰ مقرر ہوئے۔ اس کے بعد ہونے والے انتخابات میں منتخب ہونے کے بعد انہوں نے وزارت اعلیٰ کا منصب تو برقرار رکھا لیکن اسمبلی توڑ دی جسے بعد میں عدالت کے حکم سے بحال کیا گیا۔

    اس کے بعد نواب اکبر بگٹی وزیراعلیٰ بنے۔ 1990ء کے انتخابات میں قومی اسمبلی کے امیدوار تھے لیکن ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ جبکہ 1993ء میں کامیاب ہو گئے۔ 9 نومبر 1996ء تا 22 فروری 1997ء دوبارہ بلوچستان کے نگراں وزیراعلیٰ رہے۔ 1997ء میں سینٹ کے ارکان منتخب کیے گئے ۔

    1999ء نواز شریف کی جلاوطنی کے بعد جب مسلم لیگ دو حصوں میں تقسیم ہو گئی تو جمالی مسلم لیگ (ق) لیگ کے جنرل سیکریٹری بنے۔ یہ جماعت نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹانے والے صدر جنرل پرویز مشرف کی زبردست حمایت کر رہی تھی۔ مخالف دھڑے میں ہونے اور وزیر اعظم کی نامزدگی کے امیدوار ہونے کے باوجود وہ نواز شریف اور بینظیر بھٹو کو وطن واپس آنے اور انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دینے کے خواہش مند تھے ۔

    انتخابات 2002اکتوبر کے نتیجے میں ان کو پارلیمنٹ نے 21 نومبر 2002 میں وزیر اعظم منتخب کیا۔ وزیر اعظم کا انتخاب کئی سیاسی جماعتوں کے مذاکرات کے بعد عمل میں آیا۔ یہ مرحلہ اس وقت روبہ عمل ہوا جب پیپلز پارٹی کا ایک دھڑا الگ ہو کر مسلم لیگ (ق) کی حمایت پر آمادہ ہوا۔

    جمالی دور میں پرویز مشرف کے حمایتوں اور مخالفین کے درمیان جاری رہنے و الی رسہ کشی ایک سال کے بعد دسمبر 2003ء میں متحدہ مجلس عمل کی مدد سے ستارہویں ترمیم کی منظوری کے بعد ختم ہوئی۔ متحدہ مجلس عمل اور پرویز مشرف کے درمیان یہ معاہدہ طے پایا کہ ستارہویں ترمیم منظور کرانے کے بعد پرویز مشرف 31 دسمبر 2004ء تک وردی اتارلیں گے۔ لیکن پرویز مشرف نے یہ وعدہ وفا نہ کیا۔

    اپنے وزارت عظمیٰ میں ظفر اللہ جمالی نے کئی وسط ایشیائی، خلیجی ممالک سمیت امریکا کا بھی دورہ کیا۔ بش سینئر سے 90ء کی دہائی میں تعلق قائم تھا۔ پرانے تعلق کو استعمال کرتے ہوئے دورہ امریکا کے دوران صدر بش سے تعلق استوار کیا۔

    جمالی اپنے دور اقتدار میں کوئی بڑا عوامی ریلیف دینے میں ناکام رہے تاہم ان کی سب سے بڑی کامیابی یہ رہی کہ انہیں کے دور میں کوئی بڑا بحران نہیں رہا، متحدہ مجلس عمل سے مذاکرات کو چلائے رکھنا بھی ان کی بری کامیابی سمجھی گئی ۔

    وزیراعظم ظفر اللہ خان جمالی کی کابینہ میں خورشید قصوری،فیصل صالح حیات، راؤ سکندر اقبال، شیخ رشید احمد، عبدالستار لالیکا، ہمایوں اختر، کنور خالد یونس، نواز شکور، غوث بخش مہر، لیاقت جتوئی، اولیس لغاری، سمیر املک اور سردار یار محمد رند شامل تھے۔

    وزیر اعظم بننے کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف کے قریبی ساتھی سمجھے جانے لگے، انھوں نے دورانِ حکومت صدر کی پالیسیوں کی مکمل حمایت بھی کی۔ ظفر اللہ جمالی ہمیشہ ایک وسیع تر سیاسی اتحاد کے لیے کوشاں رہے اور جمہوریت کی بحالی کی طرف روبہ عمل رہنے کا وعدہ کیا تاہم وہ اپنی یہ پوزیشن برقرار نہ رکھ سکے اور 26 جون 2004ء کو وزیر اعظم کے عہدہ سے مستعفی ہو گئے۔

    Daily Khabrain

    Keep Reading

    یکم جولائی سے سرکاری دفاتر میں نیا قانون نافذ

    سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

    شادی کے چند گھنٹوں بعد ہی نوبیاہتا جوڑے کا ہیلی کاپٹر تباہ، شوہر ہلاک ہوگیا

    تازہ ترین

    یکم جولائی سے سرکاری دفاتر میں نیا قانون نافذ

    سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

    شادی کے چند گھنٹوں بعد ہی نوبیاہتا جوڑے کا ہیلی کاپٹر تباہ، شوہر ہلاک ہوگیا

    بھارت تنہائی سے بچنے کیلئے پاکستان کی برکس میں شمولیت کی حمایت کرے: بھارتی دفاعی تجزیہ کار

    جیل میں ہونے کے باوجود انمول پنکی کی منشیات کی ڈبیہ کی بچوں کے پاپڑ میں سپلائی ! بڑے انکشافات سامنے آگئے

    Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    • کالم
    • صحت
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • بزنس
    • شوبز
    • کھیل
    • انٹر نیشنل
    • پاکستان
    © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.