ایبٹ آباد (خصوصی رپورٹ) ایم این اے ڈاکٹر اظہر جدون کو صحت انصاف کارڈ کی تقریب کے دوران تھپڑمار دیئے گئے۔ اس ضمن میں پولیس اور مقامی ذرائع نے صحافیوں کو بتایاکہ جمعرات کی صبح جلال بابا آڈیٹوریم میں ہزارہ ڈویژن کیلئے صحت انصاف کارڈ کے اجراءکی تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا۔ تقریب کے مہمان خصوصی صوبائی وزیر صحت شہرام ترکئی تھے۔ صحت انصاف کارڈ کی تقریب کے دوران صوبائی وزیر صحت شہرام ترکئی، ایم این اے ڈاکٹر اظہر جدون، صوبائی وزیر خوراک قلندرخان لودھی، سابق ایم پی اے نثار صفدر خان، سابق ایم پی اے زرگل خان، محکمہ صحت کے افسران، بلدیاتی نمائندے اور پاکستان تحریک انصاف کی خواتین بہت بڑی تعداد میں موجود تھیں۔ ذرائع کے مطابق تقریب کے دوران لساں نواب مانسہرہ کارہائشی زین نامی نوجوان اٹھ کر سٹیج پر چلا گیا اور ڈاکٹر اظہرجدون پر تھپڑوں کی بارش کردی۔ جس کے جواب میں ڈاکٹر اظہر جدون نے بھی نوجوان کو مارنے کی کوشش کی، تاہم ممبرتحصیل کونسل نواں شہر صداقت خان اپنے حامیوں کے ہمراہ سٹیج پر چڑھ گئے اور نوجوان کو مارنا شروع کردیا۔ پولیس اہلکاروں نے نوجوان کو ڈاکٹراظہرجدون کے حامیوں سے چھڑا کر حراست میں لیکر تھانہ کینٹ منتقل کردیا۔ جھگڑے کے دوران زین نامی نوجوان کے کپڑے پھٹ گئے۔ اور سٹیج بھی گرگیا۔ صحافیوں سے بات چیت کے دوران نوجوان کا کہناتھاکہ ڈاکٹراظہر جدون نے نواں شہر میں قتل ہونیوالے افراد کی نمازجنازہ کے دوران لیفٹیننٹ جنرل (ر) ایاز رانا کو تھپڑے مروائے تھے۔ جس کا بدلہ میں نے لیا ہے۔ آرمی کی عزت ہے اور آرمی کی عزت کیلئے میں اپنی جان بھی دے سکتا ہوں، انہوں نے کہا کہ صحت کارڈ پر عوام کو بے وقوف بنایا جارہا ہے یہ کارڈ من پسند افراد کو دیئے جا رہے ہیں، صوبے میں ہسپتالوں کی حالت ابتر ہے۔ کینٹ پولیس ذرائع کے مطابق زین کیخلاف زیر دفعہ 506 کے تحت ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے۔ زین کو جمعہ کے روز عدالت میں پیش کیاجائے گا۔
نوجوان نے توہین کا بدلہ تحریک انصاف کے ممبر قومی اسمبلی سے کس طرح لیا …. سوشل میڈیا پر تصویر نے ہلچل مچا دی

