Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • ایف بی آر موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کرنے پر متفق، پاکستان میں قیمتیں کم ہونے کا امکان
    • غزہ میں اسرائیلی فائرنگ سے 9 افراد جاں بحق
    • مذاکرات کے پہلے دن کی غیر یقینی صورتحال کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ
    • ایران کے مطابق مذاکرات کے پہلے دن حتمی مذاکرات شروع کرنے کے لیے ضروری شقوں پر بات ہوئی
    • امریکہ اور ایران نے 60 دن کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے روڈ میپ پر اتفاق کر لیا
    • بیلجیم کے خلاف ڈرا کے بعد ایران نے ایل اے کے ڈریسنگ روم میں شکریے کا نوٹ چھوڑ دیا۔
    • اے ٹی وی بند، راجہ عامر شہزاد کے مطابق نجی ٹی وی بزنس ماڈل ناکام اور سوشل میڈیا نے ان کی جگہ لے لی
    • برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے استعفیٰ دے دیا
    • صرف پانچ ماہ میں 2 لاکھ 78 ہزار سے زائد پاکستانیوں نے بیرونِ ملک ملازمتوں کے لیے رجسٹریشن کرائی
    • عباس عراقچی: ایران کی ناکہ بندی ختم اور کچھ منجمد اثاثے بھی جاری کر دیے گئے
    • پی آئی اے ماہ کے اختتام تک نئے مالکان کے حوالے کیے جانے کا امکان
    • مزراوی: ورلڈ کپ کے بعد قرآن حفظ کر کے امام بننا چاہتا ہوں
    • ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد ایرانی ٹیم نے مذاکراتی مقام چھوڑ دیا
    • برطانوی وزیراعظم امیگریشن اور توانائی پالیسیوں میں ناکام، مستعفی ہو جائیں گے: ٹرمپ
    • ڈیموکریٹس کی اکثریت پر ٹرمپ کو اقدار کی جنگ کی وارننگ
    • سوئٹزرلینڈ میں امریکہ ایران مذاکرات شروع، لبنان بحران سرفہرست
    • شاہی مالیاتی رازداری کا خاتمہ، کنگ چارلس نے ذاتی ٹیکس گوشوارے جاری کر دیے
    • برطانوی صحافی اور ٹی وی میزبان جیریمی کلارکسن کینسر سے صحت یاب
    • جنگ بندی مذاکرات سے قبل لبنان میں اسرائیلی حملوں میں درجنوں افراد شہید
    • بریکنگ بیڈ‘ کے اداکار جیانکارلو ایسپوزیٹو نے سعودی عرب میں اسلام قبول کر لیا
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    اٹھ گئی ہیں سامنے سے کیسی کیسی صورتیں

    By Daily Khabrainستمبر 18, 2021
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    میم سین بٹ
    لاہور میں آزادی کے بعدترقی پسنددانشوروں میں فیض احمد فیض اوراحمد ندیم قاسمی بہت کم پاک ٹی ہاؤس جاتے رہے تھے۔ احمد ندیم قاسمی بھی پیراڈائز ریسٹورنٹ کی بندش کے بعد مجلس ترقی ادب اوراپنے ادبی جریدے ”فنون“ کے دفتر میں ہی محفل جما لیتے تھے ان کی محفلوں میں عطاء الحق قاسمی،امجد اسلام امجد،نجیب احمد، خالد احمد، اشرف جاوید،ضیا بٹ وغیرہ مستقل طور پر حاضری دیتے رہے تھے۔ بعدازاں ”فنون“ کے دفتر میں محفل جمانے والوں میں عطاء الحق قاسمی کی زیرادارت ”معاصر“ اورخالد احمد کی زیر ادارت ”بیاض“ کے نام سے نئے ادبی جرائد بھی چھپنے لگے تھے ”فنون“ کے بعد ”بیاض“ میں بھی چھپنے والوں میں ضیا بٹ نمایاں تھے۔ادبی حلقوں میں انہیں خالد احمد نے متعارف کرایا تھا اورحلقہ ارباب غالب کے اجلاس میں پڑھنے کیلئے ان سے پہلا افسانہ ”دوڑ“ لکھوایا تھا جسے بعدازاں خالد احمد نے”فنون“ میں بھی شائع کروادیا تھاریس کورس کے حوالے سے مہارت سے لکھا جانے والا یہ افسانہ ان کے افسانوی مجموعہ ”بھاری پانی“میں بھی شامل ہے۔
    افسانہ نگارضیاء بٹ سرکاری افسر تھے ریلوے میں اسسٹنٹ ڈائریکٹرآڈٹ رہے تھے ریلوے کے علاوہ اوقاف اور سول ایوی ایشن میں بھی ڈیپوٹیشن پر تعینات رہے تھے ان کا آبائی تعلق ہمارے ننھیالی قصبے ظفروال سے تھا جہاں سے میٹرک کا امتحان پاس کرکے لاہور چلے آئے تھے اور اسلامیہ کالج ریلوے روڈ میں داخلہ لے لیا تھا جہاں پروفیسر علم الدین سالک جیسی علمی و ادبی شخصیت کے شاگرد خاص رہے تھے۔ضیاء بٹ کے افسانوں کے 3 مجموعے شائع ہوئے جبکہ مضامین کامجموعہ ”دیدہ حیراں“ کے نام سے چھپا۔ جس کا انتساب انہوں نے بڑے صاحبزادے مظہر الحق بٹ کے نام کیا تھا اس کتاب کے مضامین ضیاء بٹ مرحوم کے سوانحی حالات پر بھی روشنی ڈالتے ہیں انہوں نے افسانوں کے مجموعہ ”سوزدروں“ کا انتساب چھوٹے صاحبزادے اطہر الحق بٹ،دوسرے افسانوی مجموعہ ”بھاری پانی“ کااپنی انتساب صاحبزادی صبیحہ امین اورتیسرے افسانوی مجموعہ ”روشنی“ کا انتساب نواسے خواجہ وقاص کے نام کیا ان کی ایک کتاب ”بیاض“ جبکہ باقی تینوں کتابیں مطبوعات لوح و قلم لاہورکے تحت شائع ہوئی تھیں۔
    ضیاء الحق بٹ مرحوم کے بڑے صاحبزادے مظہر الحق بٹ سے گزشتہ دنوں ملاقات ہوئی تو وہ ہمیں اپنے والدمحترم کی چاروں کتابیں دے گئے جنہیں ہم نے چند روز میں پڑھ لیا۔ ضیاء بٹ مرحوم کے افسانوی مجموعہ ”سوزدروں“ میں سے ہمیں ”وجدان“ جبکہ ”بھاری پانی“ سے اسی عنوان کااور”جلتی بھجتی روشنی“ میں سے ”دانشور“ افسانہ سب سے زیادہ پسند آیا تاہم اس کا انجام تشنہ محسوس ہوا۔ ضیاء بٹ نے اپنے افسانوں کے بیشترکردار اردگرد کے ماحول سے لئے۔ انہوں نے چند افسانوں میں کرداروں کے نام بھی اصل لکھے تھے ان کا مشاہدہ تیز تھااورانہیں کہانی کی بنت پر بھی مکمل عبورحاصل تھا،احمد ندیم قاسمی ان کے مشاہدے کی گہرائی اور گیرائی دیکھ کر حیرت زدہ رہتے تھے،خالد احمد نے ان کے بارے میں رائے دی تھی کہ وہ موضوع اور اظہار کے درمیان ہمہ جہت توازن پیدا کر لیتے ہیں اور ہمارے معاشرتی حقیقت پسند افسانہ نگاروں میں اعلیٰ تر مقام رکھتے ہیں،منصورہ احمد نے بھی درست لکھا تھاکہ ان کے افسانے ہماری اجتماعی اور انفرادی زندگی کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں،”دیدہ حیراں“ میں ضیاء بٹ نے دلچسپ بات بتائی کہ تقسیم ہند سے دوبرس قبل جب وہ آبائی قصبے سے لاہور شہر منتقل ہوئے تھے تو مال روڈ پر دونوں طرف سایہ دار درخت ہوتے تھے لوگ اسے ٹھنڈی سڑک کہتے تھے آدھ پون گھنٹے بعد جب مال روڈ سے کوئی موٹرکارگزرتی تو چوک میں کھڑا سپاہی اپنے سٹینڈ پر پاؤں مارکر گاڑی والے کوسلیوٹ کیا کرتا تھا۔
    ضیاء بٹ سرکاری ملازمت کے دوران داتا دربار پر اوقاف افسر تعینات رہے تھے داتا دربار سے انہیں تصوف میں دلچسپی پیدا ہوگئی اورتصوف کی قدیم ترین کتابیں تعرف،کشف المعجوب، فصوص الحکم،انفارس العارفین وغیرہ کا مطالعہ کرتے اورروحانی استادکی تلاش کیلئے مختلف شخصیات کے پاس جاتے رہے تھے لاہور میں مستقل طورپرمنتقل ہونے سے پہلے ضیاء بٹ گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے بھی یہاں آیا کرتے تھے۔
    اپنے مضامین کی کتاب میں ضیاء بٹ نے ایک جگہ لکھا ہے کہ میرے خیال میں زیادہ سے زیادہ ایک نسل کسی حد تک یاد رکھتی ہے پھر ایسا وقت آتا ہے کہ کوئی نہیں جانتا کہ آیا ضیاء بٹ بھی کبھی اس دنیا میں آیا تھا!“ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ ضیاء بٹ مرحوم کی تحریریں ادبی دنیا میں ان کا نام تادیر زندہ رکھیں ی ممکن ہے مستقبل قریب میں ایم اے،ایم فل یا پی ایچ ڈی کاکوئی طالبعلم ان کے افسانوں پر تحقیقی مقالہ بھی لکھ دے۔
    ضیابٹ اب پاک عرب سوسائٹی کے قبرستان میں ابدی نیند سورہے ہیں، بقول حیدر علی آتش۔۔۔
    اٹھ گئی ہیں سامنے سے کیسی کیسی صورتیں
    رویئے کس کے لئے،کس کس کا ماتم کیجئے
    (کالم نگارسیاسی اورادبی ایشوزپرلکھتے ہیں)
    ٭……٭……٭

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

      فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

      عہدہ ختم تو اہمیت ختم

      تازہ ترین

      برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے استعفیٰ دے دیا

      امریکا کی جانب سے معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے ایرانی وفد سوئٹزرلینڈ روانہ

      کربلا میں حضرت عباسؓ کے روضے پر مجالس و عزاداری کے لیے بڑی تعداد میں زائرین جمع

      ایران نے لبنان پر حملوں کے بعد آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان کر دیا

      اٹلی کبھی منت نہیں کرتا,ٹرمپ کے جی 7 فوٹو دعوے پر اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی برہم

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.