لاہور: (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی ساس کی مبینہ آڈیو لیک پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ فیئر ٹرائل لا کے تحت غیر قانونی فون ٹیپنگ پر 3 سال کی سزا ہو سکتی ہے۔
اپنے بیان میں کہا کہ جب وزیراعظم آفس اور وزیراعظم ہاؤس کی آڈیوز لیک کی گئیں تو ہم نے سپریم کورٹ سے بار بار درخواست کی کہ یہ معاملہ دیکھیں، یہ تباہ کن ہے، اگر ملک کے وزیراعظم کا دفتر اتنا غیر محفوظ ہے کہ وہاں ہر جگہ ریکاڈنگز ہو رہی ہيں تو باقی کون محفوظ ہو گا۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ مہینوں گزرنے پر بھی ہماری درخواست سپریم کورٹ میں نہيں لگی، اب ججز، سیاستدانوں، سرکاری ملازمین اور گھریلو خواتین تک اس کا شکار ہیں اور کوئی کچھ نہيں کر سکتا۔پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر نے کہا ہے کہ سامنے آنے والی نئی آڈيو میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ چیف جسٹس پاکستان کی فیملی بھی ریکارڈنگز سے محفوظ نہيں، اس سے پہلے وزیراعظم آفس کی بھی ریکارڈنگز ہو چکی ہیں، اس سے آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بلیک میلنگ کا نیٹ ورک کتنا وسیع ہے۔
یاد رہے کہ آج چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی ساس ماہ جبین کی وکیل خواجہ طارق رحیم کی اہلیہ رافعہ طارق سے گفتگو کر رہی ہیں۔
لیک ہونے والی آڈیو پر چیف آرگنائزر مسلم لیگ ن مریم نواز نے کہا کہ جہاں فیصلے آئین اور قانون نہیں بلکہ بیگمات اور ساسوں کی پسند ناپسند پر ہو رہے ہوں، وہاں فتنہ اور انتشار ہو گا۔
مریم نواز نے مزید کہا کہ جہاں فیصلے آئین اور قانون نہیں بلکہ بیگمات اور ساسوں کی پسند ناپسند پر ہو رہے ہوں، وہاں تعمیر و ترقی صرف خواب رہے گی، پہلے بھی کہا تھا چیف جسٹس صاحب! یہ پاکستان کی عدلیہ ہے، جوئے لینڈ نہیں!
غیر قانونی فون ٹیپنگ پر 3 سال کی سزا ہو سکتی ہے: فواد چوہدری

