مئی 2026 کے آخر میں، ایران کے محکمہ تحفظِ ماحول (Department of Environment) کے بین الاقوامی امور کے سربراہ ارمان خورسند نے ریاستی میڈیا پر اس اقدام کا بھرپور دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران بین الاقوامی قوانین کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کمرشل اور جنگی جہازوں سے ماحولیاتی نقصان کے ازالے کے لیے فیس وصول کرنے کا قانونی حق رکھتا ہے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں جاری کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کے بعد ایران نے باقاعدہ طور پر "پرشین گلف سٹریٹ اتھارٹی” (PGSA) قائم کر کے خلیج میں بحری جہازوں کی آمد و رفت کو کنٹرول کرنا اور ان سے فیس وصول کرنا شروع کر دیا ہے۔
ایران کا قانونی مؤقف اور ارمان خورسند کے دلائل
ارمان خورسند اور ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس فیس کو قانونی ثابت کرنے کے لیے درج ذیل اہم نکات پیش کیے ہیں:
-
"ٹول ٹیکس” اور "سروس فیس” کا فرق: ایران کا کہنا ہے کہ وہ جہازوں پر عام ٹرانزٹ ٹیکس یا ٹول (Tolls) عائد نہیں کر رہا (جو کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت ممنوع ہے)۔ بلکہ یہ ایک "نیویگیشنل، سیکیورٹی اور ماحولیاتی سروس فیس” ہے، جو بحری راستوں کی حفاظت اور ماحولیات کو پہنچنے والے نقصانات کی بحالی کے لیے لی جا رہی ہے۔
-
"پرامن گزرگاہ” (Innocent Passage) کا قانون: خورسند نے دلیل دی کہ آبنائے کے بعض حصے ایران کے علاقائی پانیوں میں آتے ہیں جہاں "انوسنٹ پیسیج” کا اصول لاگو ہوتا ہے۔ اس اصول کے تحت بحری جہازوں کو ایسی کسی بھی سرگرمی کی اجازت نہیں ہوتی جس سے ساحلی ملک کی سیکیورٹی یا ماحولیات کو نقصان پہنچے۔ آلودگی پھیلانا، غیر قانونی ماہی گیری، اور فوجی نقل و حرکت اس قانون کی خلاف ورزی ہے۔
-
دہائیوں کے نقصانات کا معاوضہ: ایران کا مؤقف ہے کہ خلیج فارس کا جغرافیہ ایسا ہے کہ یہاں کا سمندری نظام بہت نازک ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے غیر ملکی بحری بیڑوں کی موجودگی، علاقائی جنگوں، اور تیل کے اخراج (Oil Spills) نے اس ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کا معاوضہ اب ان جہازوں کو دینا ہوگا جو اس راستے کو استعمال کرتے ہیں۔
بین الاقوامی ردعمل اور تناؤ
عالمی برادری اور شپنگ انڈسٹری نے ایران کے اس اقدام کو ایک غیر قانونی بھتہ یا "پروٹیکشن ریکیٹ” قرار دے کر مسترد کر دیا ہے:
-
اقوام متحدہ کے قوانین (UNCLOS): امریکہ، خلیجی ممالک اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے سمندری قوانین کے کنونشن (UNCLOS) کی شق 38 اور 44 کے تحت آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی گزرگاہ ہے، جہاں تمام ممالک کے جہازوں کو بغیر کسی رکاوٹ یا فیس کے گزرنے کا حق حاصل ہے۔
-
خلیجی ممالک کا احتجاج: خلیج تعاون کونسل (GCC) کے پانچ ممالک نے لندن میں قائم بین الاقوامی بحری تنظیم (IMO) میں ایران کے خلاف باقاعدہ مشترکہ احتجاج درج کرایا ہے۔ عمان (جو اس آبنائے میں ایران کا پڑوسی ہے) نے بھی اس فیس کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔
-
جہاز رانی پر اثرات: رپورٹس کے مطابق، ایران کی نو تشکیل شدہ اتھارٹی (PGSA) بعض بڑے جہازوں سے لاکھوں ڈالر فیس طلب کر رہی ہے۔ امریکی پابندیوں کے خوف اور انشورنس کے بڑھتے ہوئے اخراجات (War-risk premiums) کے باوجود، سمندر میں ایرانی کارروائیوں سے بچنے کے لیے کئی کمپنیوں نے خاموشی سے یہ فیس ادا کرنا شروع کر دی ہے۔
