امریکہ کے ساتھ جنگ کے سبب ایران کی معیشت کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ اس کے باوجود آخر وہ کون سی طاقت ہے جس کے بل پر ایران اب تک کھڑا ہے اور اپنے فوجیوں کو ہتھیار اور عوام کو ضروری سامان فراہم کر رہا ہے؟ آخر تمام پابندیوں کے باوجود ایران کس طرح اور کن ذرائع سے آج بھی آمدنی حاصل کر رہا ہے؟
ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہوئے 100 دن سے زیادہ گزر چکے ہیں۔ بمباری اور حملوں میں اس کے بیشتر اعلیٰ حکام مارے جا چکے ہیں۔ زمین، سمندر اور فضاء میں اس کے بیشتر فوجی ڈھانچے بھی تباہ کیے جا چکے ہیں۔اس کے ساتھ ہی ایران کی آمدنی کے تقریباً تمام راستے بھی بند ہو چکے ہیں، خاص طور پر تیل کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی۔
ان تمام عوامل کے باعث ایران کو تقریباً 33 لاکھ کروڑ روپے کے نقصان کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔اتنے بڑے نقصان کے باوجود آخر وہ کون سی چیز ہے جس کے سہارے ایران آج بھی کھڑا ہے اور اس کی معیشت چل رہی ہے؟
جنگ سے پہلے ہی امریکہ نے ایران کی معیشت کو کمزور کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔گزشتہ تقریباً ایک دہائی سے ایران پر عائد مختلف پابندیوں کی وجہ سے اس کی معیشت پہلے ہی سست روی کا شکار تھی، اور اس جنگ نے گویا اس کی کمر ہی توڑ دی۔
اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق حالیہ جنگ سے ایران کی معیشت کو تقریباً 347 ارب ڈالر یعنی 33 لاکھ کروڑ روپے کا نقصان پہنچا ہے۔اس کے علاوہ 2026 میں اس کی شرح نمو صفر سے 6.1 فیصد نیچے جانے کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
اس کے باوجود ایران اپنے فوجیوں کو ہتھیار اور عوام کو بنیادی سہولتیں کیسے فراہم کر پا رہا ہے؟ یہ سوال دنیا بھر کے ماہرینِ معاشیات کے لیے حیرت کا باعث بنا ہوا ہے۔
