لاہور: ڈی آئی جی آپریشنز کی ہدایت، مغرب کے بعد خواتین پولیس اسٹیشن میں موجود نہ ہوں
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور محمد فیصل کامران نے پولیس افسران کو ہدایت جاری کی ہے کہ مغرب کے بعد کسی بھی خاتون، خواہ وہ سائلہ ہو یا ملزمہ، کو پولیس اسٹیشن میں نہ رکھا جائے۔ یہ ہدایت سٹی ڈویژن کے افسران کے ساتھ منعقدہ کرائم کنٹرول اجلاس کے دوران دی گئی۔
ڈی آئی جی کے مطابق اس اقدام کا مقصد خواتین کے وقار، رازداری اور تحفظ کو یقینی بنانا ہے تاکہ پولیس اسٹیشن آنے والی خواتین کے ساتھ احترام اور محفوظ ماحول میں پیش آیا جا سکے۔ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ خواتین سے متعلق قانونی کارروائیاں حتیٰ الامکان مغرب سے پہلے مکمل کی جائیں اور ان کی پرائیویسی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔
یہ ہدایت تھانہ غازی آباد لاہور میں مبینہ جنسی زیادتی کے ایک ہائی پروفائل واقعے کے چند روز بعد جاری کی گئی ہے، جس میں ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد تحقیقات کے دوران تھانے کے تمام 78 پولیس اہلکاروں اور عملے کو معطل کر دیا گیا، جس کے باعث عوامی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آیا اور پولیس کے احتساب کے نظام پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے۔
اس فیصلے پر مختلف حلقوں میں بحث جاری ہے۔ پولیس حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام خواتین کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ خواتین کی پولیس اسٹیشنوں میں آمد پر پابندی لگانے کے بجائے پولیس کو ہر وقت محفوظ، باوقار اور خواتین کے لیے قابلِ رسائی ماحول فراہم کرنا چاہیے۔
