امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی کارروائی کے نتیجے میں ایران کا جوہری پروگرام مؤثر طور پر تباہ ہو چکا ہے اور تہران کے لیے جوہری ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت شدید متاثر ہوئی ہے۔
وینس نے کہا کہ ایران کی یورینیم افزودگی کی صلاحیت کو خاص طور پر نقصان پہنچا ہے اور واشنگٹن اب مذاکرات کے ذریعے اس پروگرام کو مزید پیچھے دھکیلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم، انہوں نے اس سے قبل یہ بھی کہا تھا کہ امریکی حملوں نے ایران کی جوہری صلاحیت کو ’’نمایاں طور پر پیچھے‘‘ دھکیلا ہے، جبکہ مکمل تباہی کی حتمی تصدیق کے بارے میں محتاط مؤقف اختیار کیا تھا۔
دوسری جانب، ایران کے جوہری پروگرام کو پہنچنے والے نقصان کی مکمل حد اور اس کی مستقبل میں بحالی کی صلاحیت پر اختلاف موجود ہے۔ اسی وجہ سے امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی مذاکرات میں جوہری سرگرمیاں ایک اہم تنازع بنی ہوئی ہیں۔

