سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی صحت کے حوالے سے ایک نئی تشویشناک پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ان کے بیٹے ہنٹر بائیڈن نے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ان کے والد کا پروسٹیٹ کینسر ہڈیوں سے آگے پھیل چکا ہے اور انہیں شدید درد کا سامنا ہے۔
83 سالہ جو بائیڈن نے مئی 2025 میں انکشاف کیا تھا کہ انہیں پروسٹیٹ کینسر کی ایک جارحانہ قسم کی تشخیص ہوئی ہے۔ اس وقت بتایا گیا تھا کہ بیماری ان کی ہڈیوں تک پھیل چکی تھی، جس کے باعث ان کی بیماری کو سنگین نوعیت کا قرار دیا گیا تھا۔
بعد ازاں بائیڈن کی ٹیم نے تصدیق کی تھی کہ سابق صدر کا علاج جاری ہے، جس میں ریڈی ایشن تھراپی اور ہارمون تھراپی شامل ہیں۔ تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی بیماری میں مزید پیش رفت ہوئی ہے۔
ہنٹر بائیڈن کے مطابق ان کے والد کو اس وقت نمایاں تکلیف کا سامنا ہے۔ ان کا یہ بیان سابق امریکی صدر کی صحت کے بارے میں سامنے آنے والی تازہ ترین معلومات میں اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
جو بائیڈن جنوری 2021 سے جنوری 2025 تک امریکہ کے صدر رہے۔ وہ 2024 کے صدارتی انتخابات کی دوڑ سے اپنی دستبرداری کے بعد ڈیموکریٹک امیدوار کی حیثیت سے کملا ہیرس کی حمایت کر چکے تھے۔
بائیڈن کے ترجمان نے ہنٹر بائیڈن کے تازہ دعووں پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، سابق صدر کی صحت سے متعلق تازہ صورتحال نے ان کے خاندان اور سیاسی حلقوں میں تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے۔

