یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کے جنوبی علاقے نجران میں ایئرپورٹ اور سعودی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کی ایک تنصیب پر ڈرون حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع کے مطابق نجران ایئرپورٹ اور آرامکو کی تنصیب کو الگ الگ ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں حملے انتہائی درستگی کے ساتھ کیے گئے اور مطلوبہ اہداف حاصل کرلیے گئے۔
حوثی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ پہلا ڈرون حملہ نجران ایئرپورٹ پر ایک حساس سعودی ہدف کے خلاف کیا گیا، جبکہ دوسرے حملے میں نجران میں واقع آرامکو کی تنصیب کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم انہوں نے ان حملوں کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں، زخمیوں یا مالی نقصان کی کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
رائٹرز کے مطابق سعودی عرب نے فوری طور پر حوثیوں کے دعوے کی تصدیق یا تردید نہیں کی، اس لیے حملوں سے ہونے والے ممکنہ نقصان کے بارے میں آزادانہ طور پر حتمی نتیجہ اخذ کرنا ممکن نہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حوثی گروپ اس سے قبل بھی سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے دعوے کرچکا ہے۔
گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں نے جازان میں سعودی آرامکو کی ایک تنصیب پر ڈرون حملے کا دعویٰ کیا تھا۔ تاہم اس دعوے کی بھی فوری طور پر آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی تھی۔
دوسری جانب حوثیوں کے تازہ دعوے سے کچھ دیر قبل ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے سعودی عرب کو خبردار کیا تھا کہ وہ یمن کے حوثیوں، جنہیں انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، کو قابو کرنے میں کامیاب نہیں ہوگا۔
پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے ایرانی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ سعودی عرب یمن اور انصار اللہ کو قابو نہیں کرسکتا اور نہ ہی ان کے حملوں سے مکمل طور پر محفوظ رہ سکے گا۔ ان کے مطابق سعودی عرب جتنے زیادہ حملے کرے گا، اسے اتنے ہی زیادہ اور سخت جوابی حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
حالیہ واقعات نے یمن، سعودی عرب اور ایران کے درمیان علاقائی کشیدگی کے خدشات مزید بڑھا دیے ہیں، جبکہ نجران جیسے سرحدی علاقوں میں ڈرون حملوں کے دعووں نے سعودی عرب کے سیکیورٹی چیلنجز کو بھی نمایاں کردیا ہے۔

