امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے امیگریشن پالیسی مزید سخت کرتے ہوئے گرین کارڈ کے درخواست گزاروں کے لیے جانچ پڑتال بڑھا دی ہے، جبکہ غیر ملکی طلبہ، ایکسچینج پروگرام کے شرکا اور صحافیوں کے ویزوں کی مدت بھی محدود کردی گئی ہے۔
نئے قواعد کے تحت غیر ملکی طلبہ کے F ویزا اور ایکسچینج پروگرام کے J ویزا پر امریکا میں قیام عموماً زیادہ سے زیادہ چار سال تک محدود ہوگا۔ صحافیوں کے I ویزا کے تحت قیام کی مدت زیادہ سے زیادہ 240 دن مقرر کی گئی ہے، جبکہ چینی صحافیوں کے لیے یہ مدت 90 دن ہوگی۔
نئے نظام میں طلبہ اور صحافیوں کو مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد مزید قیام کے لیے توسیع کی درخواست دینا ہوگی، ورنہ انہیں امریکا چھوڑنا پڑ سکتا ہے۔ یہ قواعد 15 ستمبر 2026 سے نافذ ہونے کی توقع ہے۔
گرین کارڈ کے معاملے میں بھی انتظامیہ نے سختی بڑھائی ہے۔ مئی 2026 میں امریکی حکام نے کہا تھا کہ بعض عارضی ویزا رکھنے والے افراد جو مستقل رہائش کے لیے درخواست دینا چاہتے ہیں، انہیں اپنے ملک واپس جاکر درخواست دینے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
ان اقدامات پر طلبہ، صحافتی تنظیموں اور امیگریشن گروپس کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ 18 اگست کو مختلف یونینز اور امیگریشن تنظیموں نے نئی ویزا پابندیوں کے خلاف امریکی حکومت کے خلاف مقدمہ بھی دائر کیا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ یہ قواعد بین الاقوامی طلبہ کی حوصلہ شکنی اور صحافتی آزادی کو متاثر کرسکتے ہیں۔

