اسلام آباد: گزشتہ پانچ ماہ کے دوران خلیجی ممالک سے 21 ہزار 951 پاکستانی شہریوں کو ڈی پورٹ کر کے پاکستان واپس بھیجا گیا۔ قومی اسمبلی میں وزارتِ نارکوٹکس کنٹرول کی جانب سے جمع کرائے گئے تحریری جواب میں پاکستانی شہریوں کی ملک بدری کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔
تحریری جواب کے مطابق یکم مارچ سے 13 جولائی 2026 کے دوران مختلف خلیجی ممالک سے پاکستانی شہریوں کو متعدد وجوہات کی بنا پر ڈی پورٹ کیا گیا۔ ان وجوہات میں ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد قیام، غیر قانونی داخلہ، بھیک مانگنا، منشیات سے متعلق معاملات، جعلی دستاویزات، ویزا قوانین کی خلاف ورزی اور دیگر قانونی و انتظامی وجوہات شامل ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب سے سب سے زیادہ پاکستانی شہریوں کو واپس بھیجا گیا۔ سعودی عرب نے تقریباً 15 ہزار 500 پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا۔
متحدہ عرب امارات سے 3 ہزار 803 پاکستانی شہری ڈی پورٹ ہوئے، جبکہ عمان سے 1 ہزار 606 پاکستانیوں کو واپس بھیجا گیا۔
اسی طرح بحرین سے 521، قطر سے 429 اور کویت سے 97 پاکستانی شہری ملک بدر کیے گئے۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذکورہ عرصے کے دوران خلیجی ممالک سے ڈی پورٹ کیے جانے والے پاکستانیوں کی سب سے بڑی تعداد سعودی عرب سے تعلق رکھتی ہے، جس کے بعد متحدہ عرب امارات اور عمان کا نمبر آتا ہے۔
حکام کے مطابق بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو میزبان ممالک کے قوانین، ویزا شرائط اور امیگریشن ضوابط کی پابندی کرنا ضروری ہے، کیونکہ خلاف ورزی کی صورت میں گرفتاری، جرمانے، قید یا ملک بدری جیسے اقدامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

