انگلینڈ کے معروف اخبار ’دی ٹیلی گراف‘ نے پاکستان کی موجودہ ٹیسٹ ٹیم کی کارکردگی پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے گزشتہ نصف صدی کی مایوس کن ترین پاکستانی ٹیسٹ ٹیم قرار دیا ہے۔
یہ تبصرہ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان جاری پہلے ٹیسٹ میں قومی ٹیم کی انتہائی ناقص کارکردگی کے بعد سامنے آیا۔ دی ٹیلی گراف کی میچ کوریج اور تجزیے میں پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ اور بولنگ دونوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ انگلینڈ کی جانب سے پاکستان کے خلاف جارحانہ اور مؤثر کھیل کو نمایاں کیا گیا۔
ہیڈنگلے ٹیسٹ میں پاکستان پہلی اننگز میں صرف 171 رنز پر آل آؤٹ ہوگیا، جس کے جواب میں انگلینڈ نے 409 رنز بنا کر 238 رنز کی بڑی برتری حاصل کی۔ پاکستان کی دوسری اننگز بھی مکمل طور پر ناکام رہی اور پوری ٹیم صرف 135 رنز پر پویلین لوٹ گئی۔
انگلینڈ کے خلاف قومی ٹیم کی بیٹنگ لائن مسلسل دباؤ میں نظر آئی اور صرف چند کھلاڑی ہی مزاحمت کر سکے۔ دوسری جانب انگلینڈ کے بلے بازوں نے پاکستانی بولنگ کے خلاف بھرپور اعتماد کا مظاہرہ کیا۔ دی ٹیلی گراف کی رپورٹ میں بھی پاکستان کے بولنگ اٹیک کو مؤثر دباؤ پیدا کرنے میں ناکام قرار دیتے ہوئے انگلینڈ کے بیٹرز کی کارکردگی کو سراہا گیا۔
پاکستانی ٹیم کے لیے تشویش کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں قومی ٹیم تینوں شعبوں، بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ میں اپنی صلاحیتوں کے مطابق کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی۔ نتیجتاً انگلینڈ نے میچ پر ابتدا ہی سے مضبوط گرفت قائم کرلی۔
دی ٹیلی گراف کے اس تبصرے نے پاکستانی کرکٹ کے حلقوں میں بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آخر قومی ٹیسٹ ٹیم مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار کیوں ہے اور کیا موجودہ ٹیم میں طویل فارمیٹ کے لیے درکار معیار اور مستقل مزاجی موجود ہے۔
واضح رہے کہ دی ٹیلی گراف کی حالیہ میچ رپورٹ میں بھی انگلینڈ کے بولرز کی عمدہ کارکردگی کو پاکستان کی کمزور بیٹنگ کے مقابلے میں نمایاں کیا گیا ہے۔
قومی ٹیم کے لیے اب سب سے بڑا چیلنج اپنی خامیوں پر قابو پانا اور آئندہ ٹیسٹ میچوں میں بہتر کارکردگی کے ذریعے ناقدین کو جواب دینا ہے۔

