معروف اداکار اور ہدایت کار عثمان پیرزادہ نے لاہور کی بدلتی ثقافت اور شہر کے روایتی مزاج پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ پرانے لاہور اور نئے لاہور کے درمیان فرق مزید وسیع ہوگیا ہے۔
عثمان پیرزادہ کے مطابق لاہور کی ثقافت ہمیشہ سے اپنی ایک منفرد شناخت رکھتی تھی، لیکن گزشتہ برسوں کے دوران شہر میں مختلف علاقوں اور شہروں سے آنے والے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں لاہور کے روایتی مزاج اور ثقافتی انداز میں بھی تبدیلیاں آئیں۔
ان کا کہنا ہے کہ باہر سے آنے والے افراد شہر کو اپنے نقطۂ نظر اور تجربات کے مطابق دیکھتے تھے اور ان میں سے بعض لوگ لاہور کے مخصوص مزاج، روایات اور ثقافتی خصوصیات کو پوری طرح نہیں سمجھ سکے۔ ان کے خیال میں مختلف تصورات اور طرزِ زندگی کے امتزاج نے رفتہ رفتہ لاہور کی ثقافت کو متاثر کیا۔
عثمان پیرزادہ نے کہا کہ لاہور کی ثقافتی شناخت اب بھی زندہ ہے اور شہر کی روایات، فنون اور تاریخی ورثہ آج بھی اپنی جگہ موجود ہیں، تاہم ماضی کے لاہور کی وہ مخصوص دلکشی اور روایتی رنگ بڑی حد تک تبدیل ہوچکا ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ لاہور محض ایک شہر نہیں بلکہ ایک منفرد تہذیبی اور ثقافتی شناخت کا نام ہے، جس کے تاریخی مزاج اور روایات نے ہمیشہ پاکستانی ثقافت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
عثمان پیرزادہ کے ان خیالات کے بعد سوشل میڈیا پر بھی لاہور کے پرانے اور نئے ثقافتی رنگ کے حوالے سے بحث شروع ہوگئی ہے، جہاں صارفین ماضی کے لاہور کی یادوں اور موجودہ شہر میں آنے والی تبدیلیوں پر اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔

