پاکستان میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے کے لیے سخت اقدامات کی تجویز سامنے آگئی ہے۔ اس حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس میں 16 سال سے کم عمر بچوں کو فیس بک، ٹک ٹاک اور انسٹاگرام سمیت بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی سے روکنے کے لیے قانون سازی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کم عمر بچوں کو آن لائن دنیا میں سائبر بُلنگ، ہراسانی، بلیک میلنگ، استحصال اور نقصان دہ مواد سمیت مختلف خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ درخواست گزار نے بچوں کے تحفظ کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مزید ذمہ داری عائد کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
مجوزہ اقدامات میں صارفین کی سخت عمر کی تصدیق، مؤثر والدین کے کنٹرولز اور کم عمر صارفین کے اکاؤنٹس کی نگرانی کے لیے بہتر نظام شامل ہیں۔
اس پیش رفت کے بعد سوشل میڈیا (صارفین کے لیے عمر کی حد) بل 2025 بھی دوبارہ زیرِ بحث آگیا ہے۔ مجوزہ بل میں 16 سال سے کم عمر افراد کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اکاؤنٹس بنانے سے روکنے کی تجویز دی گئی تھی۔
درخواست کے ذریعے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر قانونی اور انتظامی اقدامات کیے جائیں، جبکہ سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی کم عمر صارفین کے تحفظ کے حوالے سے زیادہ ذمہ دار بنایا جائے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست کی سماعت اگلے ماہ متوقع ہے۔ آن لائن بچوں کے تحفظ اور سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال پر بحث کے درمیان یہ معاملہ پاکستان میں ڈیجیٹل سیفٹی سے متعلق نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔

