نیپال اور چین کے درمیان ہمالیائی سرحدی علاقے میں آنے والے تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 600 سے تجاوز کرگئی ہے، جبکہ ہزاروں افراد تاحال لاپتا ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق نیپال میں کم از کم 626 افراد جبکہ چین کے تبت علاقے میں 7 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
یہ تباہی 26 اگست کو ایک گلیشیئر کے ٹوٹنے کے بعد شروع ہوئی، جس سے پانی، برف، چٹانوں اور کیچڑ کا ایک بڑا ریلا دریائی نظام میں داخل ہوگیا۔ سیلاب نے نیپال کے راسووا اور نوواکوت اضلاع سمیت چین کے تبت کے سرحدی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔
ریسکیو کارروائیاں ایک نئے بننے والے جھیل نما ذخیرے کے پانی بڑھنے اور مزید سیلاب کے خدشے کے باعث عارضی طور پر روک دی گئی تھیں، تاہم خطرہ کم ہونے کے بعد نیپال اور چین نے دوبارہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کردیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق 3 ہزار سے زائد افراد لاپتا ہیں، جن میں بڑی تعداد غیر ملکی شہریوں کی بھی شامل ہے۔ نیپال میں اب تک ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل یا ریسکیو کیا جاچکا ہے، تاہم کیچڑ، تباہ شدہ سڑکوں اور خراب موسم کے باعث امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
حکام کو خدشہ ہے کہ پہاڑی علاقوں میں موجود غیر مستحکم جھیلوں اور مزید لینڈ سلائیڈنگ کے باعث مزید سیلاب کا خطرہ برقرار ہے، جس کے پیش نظر متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات بھی دی گئی ہیں۔
ریڈ کراس کے مطابق اس قدرتی آفت سے 90 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں، جبکہ کئی علاقوں میں مکانات، پل، سڑکیں اور دیگر بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوگیا ہے۔

