نیپال اور چین کے سرحدی ہمالیائی علاقوں میں تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث کم از کم 469 افراد جاں بحق ہوگئے، جبکہ 1400 سے زائد افراد تاحال لاپتا ہیں۔ نیپالی پولیس کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد جمعہ کو 469 تک پہنچ گئی، جبکہ چین کے تبت میں بھی 3 ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔
یہ تباہی 26 اگست کو ہمالیہ میں گلیشیئر کے ٹوٹنے کے بعد پیش آئی، جب برف، چٹانوں، کیچڑ اور پانی کا ایک بڑا ریلہ دریائی نظام میں داخل ہوا اور نیپال کے بھوٹے کوشی اور تریشولی دریاؤں کے اطراف واقع آبادیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ متعدد گھر، سڑکیں، پل اور دیگر بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوگیا۔
نیپال کے مختلف اضلاع میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ حکام کے مطابق چتوان، نوالپراسی ایسٹ، گورکھا، نواکوت، دھادنگ، تنہون، نوالپراسی ویسٹ اور رسووا سے لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔ چتوان میں سب سے زیادہ 178 ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔
لاپتا افراد میں بڑی تعداد غیر ملکی سیاحوں، ٹریکرز اور مذہبی زائرین کی بھی شامل ہے۔ چین کے زیرِ انتظام تبت کے گیرونگ کاؤنٹی میں 558 افراد لاپتا بتائے گئے ہیں، جن میں 260 غیر ملکی شہری شامل ہیں۔
ریسکیو ٹیمیں ملبے اور کیچڑ میں پھنسے افراد کی تلاش کے لیے بھاری مشینری، ہیلی کاپٹر، ڈرونز اور تربیت یافتہ کتوں کا استعمال کر رہی ہیں۔ نیپال میں کم از کم 1,545 افراد کو متاثرہ علاقوں سے بحفاظت نکالا جا چکا ہے، جبکہ درجنوں زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
تاہم امدادی کارروائیوں کو ایک نئے خطرے کا سامنا ہے۔ سیلاب کے ملبے سے بننے والی جھیلوں میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے، جس سے مزید سیلاب اور اچانک پانی کے ریلے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ اسی خطرے کے باعث تبت میں متاثرہ مقام پر کچھ ریسکیو کارروائیاں عارضی طور پر روکنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ لاپتا افراد کی تلاش اور لاشوں کی شناخت کا عمل جاری ہے، اس لیے ہلاکتوں اور لاپتا افراد کی تعداد میں مزید تبدیلی کا امکان ہے۔ امدادی ادارے متاثرہ علاقوں میں خوراک، طبی امداد اور دیگر ضروری سامان پہنچانے کے ساتھ ساتھ مزید سیلاب کے خطرے سے نمٹنے کی بھی تیاری کر رہے ہیں۔

