پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے انگلینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ سے قبل کہا ہے کہ ٹیم میں کوئی بھی کھلاڑی ناگزیر نہیں، جس کھلاڑی کی ٹیم کو ضرورت ہوگی وہی میدان میں اترے گا اور بہترین دستیاب کھلاڑیوں کو استعمال کیا جائے گا۔
لارڈز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بابر اعظم نے کہا کہ پچ کا جائزہ لینے کے بعد فائنل الیون کا فیصلہ کیا جائے گا۔ ان کے مطابق ٹیم کی ذمہ داری صرف ایک یا دو کھلاڑیوں پر نہیں بلکہ پوری ٹیم پر عائد ہوتی ہے۔
بابر اعظم نے کہا کہ اگر بولرز مخالف ٹیم کے 20 کھلاڑی آؤٹ کریں گے تو بیٹرز کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ رنز بنائیں۔ جو کھلاڑی اس وقت توقعات کے مطابق کارکردگی نہیں دکھا رہے، انہیں اعتماد دینے کی کوشش کی جائے گی۔ سینئر کھلاڑیوں پر کوئی اضافی بوجھ نہیں، تاہم ان پر ذمہ داری ضرور ہے کہ وہ آگے بڑھ کر کارکردگی دکھائیں۔
انہوں نے کہا کہ صرف محمد رضوان ہی نہیں بلکہ ہر کھلاڑی کو اپنی ذمہ داری نبھانا ہوگی۔ لارڈز میں کامیابی کے تسلسل کو برقرار رکھنے کی پوری کوشش کریں گے۔ بابر کے مطابق پہلے ٹیسٹ میں ٹیم نے اچھی کرکٹ نہیں کھیلی، جس کے بعد خامیوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔
کپتان نے کہا کہ پہلے ٹیسٹ میں دوسرے اسپنر کے طور پر سلمان علی آغا کو کھلایا گیا تھا، جبکہ عبداللہ شفیق کو اسی نمبر پر بیٹنگ کرنی چاہیے جس نمبر پر وہ کھیل رہے ہیں۔
بابر اعظم نے اعتراف کیا کہ اچھی پارٹنرشپ قائم ہونے کے بعد ٹیم کی وکٹیں اکثر یکے بعد دیگرے گر جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس خامی پر مزید توجہ دی جا رہی ہے اور کوشش ہوگی کہ دوسرے ٹیسٹ میں اسے دہرایا نہ جائے۔
قومی کپتان نے امید ظاہر کی کہ اس مرتبہ ٹیم کی کارکردگی پہلے میچ سے مختلف نظر آئے گی۔ اپنی فٹنس کے حوالے سے بابر اعظم نے بتایا کہ وہ دوسرے ٹیسٹ اور بقیہ سیریز کے لیے تقریباً 90 فیصد فٹ ہیں۔

