امریکی حکومت نے دنیا بھر میں امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں پر امیگرنٹ ویزا انٹرویو اپائنٹمنٹس عارضی طور پر روکنے یا دوبارہ شیڈول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ اقدام قونصلر افسران کے لیے ایک عالمی تربیتی پروگرام کے تحت کیا گیا ہے، جس کا مقصد ویزا درخواستوں کی جانچ اور اسکریننگ کے طریقہ کار کو مزید یکساں اور سخت بنانا ہے۔
محکمہ خارجہ کی جانب سے قونصلر افسران کو خاص طور پر اس بات کی تربیت دی جا رہی ہے کہ آیا امیگرنٹ ویزا کے امیدوار مستقبل میں امریکی حکومت کی مالی معاونت یا عوامی فوائد پر انحصار کرنے کا امکان رکھتے ہیں یا نہیں۔ اس عمل کو Public Charge اسکریننگ سے جوڑا گیا ہے۔
اس فیصلے کے نتیجے میں کئی ایسے درخواست گزار متاثر ہوں گے جن کے امیگرنٹ ویزا انٹرویوز پہلے سے طے تھے۔ رپورٹس کے مطابق بعض اپائنٹمنٹس منسوخ کرکے بعد کی تاریخوں پر منتقل کی جا رہی ہیں، تاہم ویزا انٹرویوز معمول کے مطابق دوبارہ کب شروع ہوں گے، اس حوالے سے فی الحال واضح تاریخ نہیں دی گئی۔
یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے امیگریشن نظام میں سختی کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ حالیہ مہینوں میں امریکی حکومت نے امیگرنٹ ویزا درخواستوں کی زیادہ سخت جانچ، بعض ممالک کے شہریوں کے لیے ویزا پابندیوں اور دیگر امیگریشن اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
اہم وضاحت: یہ تازہ عالمی اقدام بنیادی طور پر امیگرنٹ ویزا اپائنٹمنٹس/انٹرویوز سے متعلق ہے؛ اسے ہر قسم کے امریکی ویزے کی مکمل بندش سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ امریکی محکمہ خارجہ کی ویزا نیوز میں نان امیگرنٹ ویزوں کے لیے الگ پروگرامز اور اپائنٹمنٹ اقدامات بھی درج ہیں۔
پس منظر: اس سے پہلے بھی امریکا نے مخصوص ممالک کے شہریوں کے امیگرنٹ ویزا اجرا پر الگ پابندیاں عائد کی تھیں، جبکہ رواں سال بعض ممالک میں سفارت خانوں کی مقامی صورتحال کے باعث تمام ویزا سروسز عارضی طور پر معطل کی گئی تھیں۔ موجودہ اعلان کی خاص بات یہ ہے کہ امیگرنٹ ویزا اپائنٹمنٹس میں عالمی سطح پر تبدیلی کی جا رہی ہے۔

