لاہور جمخانہ کلب کو قیمتی سرکاری زمین کی طویل عرصے سے جاری لیز کے معاملے پر بڑا تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ پنجاب اسمبلی کی ایک کمیٹی نے اس انتظام اور اس کے مالی اثرات پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔
کمیٹی کے سامنے پیش کی گئی تفصیلات کے مطابق لاہور جمخانہ تقریباً 1,091 کنال سرکاری زمین پر قائم ہے، جو لاہور کے انتہائی قیمتی علاقے میں واقع ہے اور دی مال، جیل روڈ اور ظفر علی روڈ کے قریب ہے۔
رپورٹس کے مطابق کلب اس زمین کا صرف 5 ہزار روپے سالانہ کرایہ ادا کرتا ہے، جو تقریباً 417 روپے ماہانہ بنتا ہے۔ اس سے قبل پنجاب اسمبلی کی کارروائی میں بتایا گیا تھا کہ کرایہ تقریباً 50 پیسے فی کنال بنتا ہے، جس پر ارکان اسمبلی نے شدید تنقید کی۔
زمین کی مالیت کے مقابلے میں یہ رقم انتہائی معمولی دکھائی دیتی ہے۔ بورڈ آف ریونیو کی جانب سے کی گئی ایک تخمینہ شدہ قیمت کے مطابق زمین کی تجارتی مالیت 2 کروڑ روپے فی کنال تک بتائی گئی ہے، جس کے حساب سے مجموعی زمین کی مالیت تقریباً 218 ارب روپے بنتی ہے۔
خصوصی کمیٹی کے ارکان نے انتہائی کم لیز رقم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آیا اس معاہدے کے باعث صوبائی خزانے کو بڑے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کمیٹی کلب کی زمین پر قبضے، تعمیرات اور حکومتی قوانین کی پابندی سے متعلق معاملات کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔
سرکاری ریکارڈ میں کلب کے زیرِ استعمال مزید اراضی سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں، جن میں باغِ جناح کا کرکٹ گراؤنڈ بھی شامل ہے، جو محکمہ زراعت کی ملکیت بتایا جاتا ہے۔
کمیٹی کے سامنے پیش کی گئی قانونی رائے کے مطابق معاہدے کی شرائط کے تحت حکومت 6 ماہ کا نوٹس دے کر لیز ختم کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔
اس معاملے نے سرکاری زمین کے استعمال میں عدم مساوات پر بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ناقدین کا سوال ہے کہ غریب ریڑھی بانوں اور معمولی تجاوزات کے خلاف سخت کارروائیاں کی جاتی ہیں، جبکہ قیمتی سرکاری اراضی بااثر اداروں کو انتہائی سازگار شرائط پر دی جا سکتی ہے۔
کمیٹی کی آئندہ کارروائی میں یہ طے ہونے کی توقع ہے کہ لاہور جمخانہ کی لیز برقرار رکھی جائے گی، اس کی شرائط میں تبدیلی کی جائے گی یا مزید قانونی و انتظامی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

