انگلینڈ کے سابق فاسٹ بولر اسٹیورٹ براڈ نے لارڈز ٹیسٹ کے دوران پاکستانی اوپنر امام الحق کی انجری کے باوجود پریکٹس کرنے کے انداز پر سخت تنقید کی ہے۔ براڈ نے امام کی جانب سے میدان کے کنارے بیٹنگ پریکٹس کو ’’صرف دکھاوے کے لیے‘‘ قرار دیا۔
امام الحق کو لارڈز ٹیسٹ کے پہلے دن بائیں پنڈلی میں انجری کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے باعث وہ میچ کی دونوں اننگز میں بیٹنگ نہیں کرسکے۔ تاہم چوتھے روز کھیل شروع ہونے سے قبل انہیں میدان کے کنارے بیٹنگ پریکٹس کرتے دیکھا گیا۔ ان کی بائیں پنڈلی پر ٹیپ لگی ہوئی تھی اور وہ لنگڑا کر چلتے ہوئے شاٹس کھیل رہے تھے۔
اسکائی اسپورٹس پر تجزیے کے دوران اسٹیورٹ براڈ نے امام الحق کے اس انداز پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہیں میڈیا اور شاید ساتھی کھلاڑیوں کی جانب سے کچھ تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہوگا، اسی لیے وہ اپنی انجری کی صورتحال دکھانا چاہتے ہوں گے۔
براڈ نے کہا کہ اگر امام کو پریکٹس کرنی تھی تو وہ یہ کام کسی انڈور اسکول میں لوگوں کی نظروں سے دور بھی کرسکتے تھے۔ ان کے مطابق اس کے لیے شارٹس پہن کر، ٹانگ پر ٹیپ لگا کر اور لنگڑا کر چلتے ہوئے پریکٹس کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ براڈ نے واضح کیا کہ وہ اس انداز سے متاثر نہیں ہوئے۔
یہ معاملہ اس لیے بھی توجہ کا مرکز بنا کیونکہ امام الحق میچ میں بیٹنگ کے لیے میدان میں نہیں اترے، جبکہ انہیں چوتھے روز پریکٹس کرتے دیکھا گیا۔ ان کی انجری پہلے ہی بحث کا موضوع بن چکی تھی اور سابق پاکستانی چیف سلیکٹر محمد وسیم کی جانب سے بھی ماضی میں امام کی انجریز سے متعلق الزامات سامنے آچکے تھے۔ تاہم براڈ کی گفتگو بنیادی طور پر امام کے عوامی انداز میں پریکٹس کرنے پر تنقید تھی۔
لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان کی بیٹنگ بھی شدید مشکلات کا شکار رہی اور ٹیم پہلی اننگز میں 110 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی۔ بالآخر انگلینڈ نے یہ ٹیسٹ 194 رنز سے جیت کر تین میچز کی سیریز میں 2-0 کی فیصلہ کن برتری حاصل کرلی۔

