اسرائیل اور یونان نے تقریباً 3 ارب یورو (3.48 ارب ڈالر) مالیت کے ایک بڑے دفاعی معاہدے پر دستخط کردیئے ہیں، جس کے تحت اسرائیل یونان کے لیے جدید کثیر سطحی فضائی اور میزائل دفاعی نظام تیار کرے گا۔
اسرائیلی وزارت دفاع کے مطابق معاہدے کو "Achilles Shield” کا نام دیا گیا ہے اور یہ اسرائیل اور یونان کے درمیان دفاعی تعاون کی تاریخ کا سب سے بڑا دفاعی برآمدی معاہدہ قرار دیا جا رہا ہے۔
معاہدے کے تحت یونان کو مختلف اسرائیلی دفاعی نظام فراہم کیے جائیں گے، جن میں David’s Sling، BARAK MX اور SPYDER شامل ہیں۔ یہ نظام بیلسٹک میزائلوں، طیاروں، ڈرونز اور دیگر فضائی خطرات سے نمٹنے کے لیے استعمال ہوں گے۔
منصوبے میں ایک جدید قومی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بھی شامل ہے، جو مختلف دفاعی نظاموں کو ایک مربوط نیٹ ورک میں منسلک کرے گا۔ اس کے علاوہ اسرائیل یونان کو MMR ملٹی مشن ریڈارز بھی فراہم کرے گا۔
اسرائیلی وزارت دفاع کے مطابق یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اسرائیل کسی دوسرے ملک کو مختلف نوعیت کے فضائی خطرات کے خلاف ایک مکمل اور مربوط دفاعی نظام فراہم کر رہا ہے۔
دونوں ممالک نے اس کے علاوہ تقریباً 26 ملین یورو کا ایک اضافی معاہدہ بھی کیا ہے، جس کے تحت یونان کو Drone Dome نظام فراہم کیے جائیں گے۔
معاہدے کے تحت یونان کی دفاعی صنعت کے ساتھ صنعتی تعاون، ٹیکنالوجی اور مہارت کی منتقلی بھی کی جائے گی۔ یونانی حکام کے مطابق "Achilles Shield” کا مقصد ملک کی فضائی، میزائل اور ڈرون دفاعی صلاحیتوں کو ایک مربوط نظام میں تبدیل کرنا ہے۔
یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یونان اپنی مسلح افواج کی جدید کاری اور فضائی دفاعی صلاحیتوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ کر رہا ہے، جبکہ مشرقی بحیرہ روم میں سکیورٹی اور دفاعی تعاون بھی اہمیت اختیار کر رہا ہے۔
اسرائیل کا یونان کے ساتھ3ارب یورو کا بڑا دفاعی معاہدہ

