واشنگٹن، تہران ( نیوز ایجنسیاں) اڈے پرحملے میں 9جنگی طیارے نشانہ بن گئے،امریکی بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز کومتبادل مقامات پر منتقل کردیا گیا۔ جبکہ ایرانی جزیرے قشم اور سیریک میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سی گئی ہیں ۔ ادھر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اب مشرق وسطیٰ کا غنڈہ نہیں رہا۔ جبکہ ایران نے کہا ہے کہ اگر امریکہ حقیقی معنوں میں امن چاہتا ہے تو خطے یں عدم استحکام پر مبنی مداخلت بند کرے۔ اردن میں امریکی اڈے پر ایرانی میزائل حملے کے نتیجے میں متعدد امریکی جنگی طیاروں کو نقصان پہنچا ہے۔امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق باخبر ذرائع نے بتایا کہ بدھ کی صبح اردن کے موافق السلطی ایئربیس پر ایرانی حملے میں تقریباً 8ایف 15جنگی طیاروں کو نقصان پہنچا، تاہم انہیں دوبارہ آپریشنل کردیا گیا۔رپورٹ کے مطابق حملے میں ایک اے 10تھنڈر بولٹ جنگی طیارہ بھی زد میں آیا، جسے وارٹ ہاگ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ ایک اے 10تھنڈربولٹ طیارہ ایک پر سے محروم ہوکر ناکارہ ہوگیا۔امریکی میڈیا کے مطابق حملوں کا مقابلہ کرنے کیلئے امریکی اڈے سے 30 سے زیادہ پیٹریاٹ میزائل داغے گئے، امریکا کو پہلے ہی پیٹریاٹ میزائلوں کی شدید کمی کا سامنا ہے۔یہ حملہ ایران کی جانب سے امریکی حملوں کے جواب میں کیے گئے جوابی حملوں کی لہر کا حصہ تھا۔ دوسری جانب غیر ملکی میڈیا اور انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق غیر معمولی طور پر ہیلی کاپٹرز کو پرواز کے بجائے مکمل حالت میں فلیٹ بیڈ ٹرکوں کے ذریعے منتقل کیا جا رہا ہے۔یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست فوجی کشیدگی کے باعث خطے میں صورتحال انتہائی حساس ہے اور امریکی تنصیبات کو میزائل اور ڈرون حملوں کا خطرہ درپیش ہے۔دفاعی ماہرین کے مطابق ہیلی کاپٹرز کی منتقلی کا مقصد انہیں ممکنہ ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں سے محفوظ رکھنا اور امریکی عسکری اثاثوں کو مختلف مقامات پر پھیلانا ہوسکتا ہے۔یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بعض ہیلی کاپٹرز حالیہ حملوں میں ملبے یا دیگر نقصانات کے باعث اپنی مدد سے پرواز کے قابل نہ ہوں۔دریں اثناء ایران کے جزیرے قشم اور سیریک میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق آبنائے ہرمز میں واقع قشم جزیرے پر ایک زور دار دھماکے کی آواز سنی گئی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ دھماکے کی آواز سمندر سے آئی یا دھماکا قشم جزیرے کے اندر ہوا، تاہم سیریک کے کئی علاقوں کو پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔جبکہ ایران نے کہاہے کہ امریکا حقیقی معنوں میں امن چاہتا ہے تو خطے میں عدم استحکام پر مبنی مداخلت بند کرے۔تر جمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے ایک بیان میں کہا کہ انصاراللہ یمن کی خودمختار تنظیم ہے جو اپنے فیصلے خود کرتی ہے ، انصاراللہ نہ تو کسی سے احکامات لیتی ہے،نہ ہی کسی کی پراکسی ہے۔اسماعیل بقائی نے کہا کہ خطے میں عدم استحکام کی جڑ امریکی فوجی مداخلت اور حاکمانہ پالیسیاں ہیں، واشنگٹن حقیقی معنوں میں امن چاہتا ہے تو خطے میں عدم استحکام پر مبنی مداخلت بند کرے۔ان کا کہنا تھا کہ بموں اور بیرونی دبا سے یمن میں امن قائم نہیں کیا جاسکتا، تمام فریقوں کے متفقہ روڈمیپ کی بنیاد پر حقیقی مذاکرات سیامن قائم ہوگا۔ادھر امریکی اخباروال سٹریٹ جرنل نے کہا ہے کہ ایران جنگ جنوری 2029 تک جاری رہنے کا خدشہ ہے۔امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق جے ڈی وینس اور مارکو روبیو نے ٹرمپ کو خدشات سے آگاہ کردیا، ایران امریکی دبائو، بحری ناکہ بندی اور پابندیوں کے باوجود مزاحمت جاری رکھ سکتا ہے، امریکا نے مشرق وسطیٰ میں فوجی موجودگی برقرار رکھنے کی تیاری کرلی۔امریکی میڈیا نے بتایا ہے کہ بعض امریکی فضائی دفاعی یونٹس کی تعیناتی 2027 تک بڑھائی جارہی ہے، مزید میرین فورسز اور جنگی طیاروں کی گردش بھی جاری رہے گی، ایران کے میزائل حملوں سے خلیجی توانائی تنصیبات کو خطرہ ہے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ طویل جنگ سے عالمی تیل منڈیوں میں مزید عدم استحکام کا خدشہ ہے۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ جیتنے کا دعوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی فوجی حملوں کے بعد ایران بکھر رہا ہے، وہ 51سال سے مشرقِ وسطیٰ کا غنڈہ بنا ہوا تھا لیکن اب وہ غنڈہ نہیں رہا،جبل الفاس پر نظر ہے، ضرورت پڑی تو حملہ کرسکتے ہیں، ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے عالمی اقتصادی فورم سے خطاب اور بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اگر ہم نے ایران کو تباہ نہ کیا ہوتا تو وہ 2 ماہ کے اندر جوہری ہتھیار حاصل کر لیتا۔امریکی صدر کا کہنا ہے کہ جون میں کیے گئے امریکی حملوں نے ستمبر میں غزہ میں امن معاہدے کی راہ ہموار کی، جس کے نتیجے میں علاقے میں اسرائیل کی 2 سالہ جنگ کا خاتمہ ہوا۔انہوں نے حماس پر زور دیا کہ وہ معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے ہتھیار ڈال دے، بصورتِ دیگر اسے مکمل طور پر تباہ کیا جا سکتا ہے۔ امریکی صدر نے ایران کے خلاف جنگ جیتنے کا دعویٰ کیا اور ایک بار پھر ایران کو دھمکی دیتے ہوئے ایرانی تنصیب پر ممکنہ حملے کا عندیہ دیا۔انہوں نے کہا میری نظر جبل الفاس پر ہے،ضرورت پڑی تو وہاں حملہ کیا جاسکتا ہے،ایران تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے،اسے کسی صورت جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
امریکی جنگی جہاز
بریکنگ نیوز
- مومنہ کو دیکھتے ہی پہلی نظر میں پیار ہو گیا تھا: ثاقب چدھڑ کا نیا انکشاف
- پیما میں مینجمنٹ سکیل پر بھرتیوں کی تیاری شروع
- قطر سے 81 ہزار 936 میٹرک ٹن ایل این جی کارگو پورٹ قاسم پہنچ گیا
- پیٹرولیم قیمتوں میں مسلسل اضافہ تشویشناکہے،ترجمان جے یو آئی
- لاوارث لاشوں کی شناخت کیلئے 100 جدید بائیومیٹرک مشینیں خرید لی گئیں
- نیویارک’ JFKائیرپورٹ سے مزمل احمد گرفتار،فراڈ کے الزاما ت
- برائلر گوشت میں8روپے کلوکمی
- پنجاب حکومت کا پی ایچ ایز کی مشینری تبدیل اور اپ گریڈ کرنے کا فیصلہ
- محکمہ صحت و آبادی’ ڈاکٹرز کی ٹرانسفر’ پوسٹنگ کیلئے این او سی جاری کرنیکا عمل روک دیا
- ریسٹورنٹس میں دھوئیں کے اخراج کی روک تھام،متعدد ریسٹورنٹس سیل
- یورو بانڈز کا اجرا ء معاشی استحکام کی جانب اہم پیشرفت :پیاف
- پاکستان میں ڈینگی کیسز اعدادوشمار سے 125 گنا زیادہ ہونیکا انکشاف
- بلوچستان، محکمہ صحت نے 26لیڈی ڈاکٹرزکو ملازمت سے برطرف کردیا
- بی جے پی حکومت نے حکم امتناعی کے باوجود چرچ پر بلڈوزر چلا دیا
- جزاسزا کے بغیر پاکستان بہتری کی طرف گامزن نہ ہونے والا ہے،اختر اقبال ڈار
- فراڈ کے الزامات کے بعد سابق بنگلادیشی وزیر اعظم حسینہ واجد کی بیٹی نے عالمی ادارہ صحت سے استعفیٰ دیدیا
- پروفیسر عارف ساقی ‘ بھتیجے پر تشدد کا کیس، مرکزی ملزم کونین شاہ کی عبوری ضمانت منظور
- گائے کا گوشت مردوں کیلئے کیوں اہم؟ اہم وجہ سامنے آگئی
- اسلام پورہ ‘ چوری شدہ 5تولے سونا اکرم پارک گھر سے برآمد
- مدھیہ پردیش، گائے کو لات مارنے کا الزام،ہندو غنڈوںنے معمر مسلمان شخص کو ذلت آمیز سلوک کا نشانہ بنایا
