لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)بنگلادیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی بیٹی اور عالمی ادارہ صحت
کی جنوب مشرقی ایشیا کی سربراہ صائمہ واجد نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا۔ غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطاق صائمہ واجد نے اقوام متحدہ کی ایجنسی اور بنگلادیشی حکام کی جانب سے فراڈ کی تحقیقات شروع ہونے کے بعد بدھ کے روز استعفی دیا۔عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق ادارے کی ایک کمیٹی نے ان کے استعفے سے ایک روز قبل ہی انہیں عہدے سے برطرف کرنے کی سفارش کردی تھی۔ واضح رہے کہ صائمہ واجد نے 2024 میں پانچ سالہ مدت کے لیے یہ عہدہ سنبھالا تھا تاہم گزشتہ سال کے اواخر میں انہیں بغیر تنخواہ کے رخصت پر بھیج دیا گیا تھا۔ اس سے قبل جولائی 2025 میں بھی انہیں اس وقت رخصت پر بھیجا گیا تھا جب بنگلادیش کی عبوری حکومت کے انسداد بدعنوانی کمیشن نے ان پر دھوکہ دہی اور جعلسازی کے الزامات عائد کیے تھے۔عالمی ادارہ صحت کی جانب سے صائمہ واجد پر چین کے سفر کے حوالے سے مالیاتی فراڈ اور اپنی تعلیمی اسناد کے بارے میں غلط بیانی کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں تاہم صائمہ واجد نے ان تمام الزامات کی تردید کی ہے۔اس کے علاوہ عالمی ادارہ صحت نے ان پر بنگلادیش میں غیر قانونی طور پر زمین حاصل کرنے کا بھی الزام لگایا تھا۔
