ایبٹ آباد (بیورو رپورٹ)خیبر پختونخوا اور وفاق کے درمیان توانائی کے امور پر ایک اعلی سطحی اجلاس وفاقی دارالحکومت میں منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزیر توانائی و برقیات نذیر احمد عباسی نے وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک سے اہم ملاقات کی۔اس موقع پر سیکرٹری توانائی و برقیات نثار احمد سمیت ایڈیشنل سیکرٹری توانائی نورولی خان اور دیگر سینئر حکام بھی موجود تھے۔ملاقات میں صوبے کو درپیش توانائی کے مسائل، رائلٹی اور آئینی حقوق کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس کے دوران صوبائی وزیر نذیر احمد عباسی نے خیبر پختونخوا کے صنعتی شعبے کی ترقی کے لیے 100 MMCFD گیس کی تخصیص کا باقاعدہ مطالبہ کیا۔ انہوں نے وفاق پر زور دیا کہ گیس پیدا کرنے والے اضلاع میں گیس کنکشن کی فی صارف لاگت کے معیار کا ازسرنو تعین کیا جائے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے ایل پی جی پالیسی 2016 کے تحت خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں کے جنگلات کے تحفظ کی خاطر 10 فیصد ایل پی جی گیس مختص کرنے کا بھی مطالبہ دہرایا۔ صوبائی وزیر توانائی نے وفاقی حکومت کو صوبائی تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ رائلٹی کی عدم ادائیگی اور آئینی حقوق کے معاملے پر خیبر پختونخوا کے عوام میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزیر اعلی سہیل آفریدی کی سربراہی میں صوبے کے عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن آئینی راستہ اختیار کیا جائے گا۔ملاقات میں وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے صوبائی وفد کو یقین دلایا کہ خیبر پختونخوا کے توانائی کے مسائل کے حل کے لیے وفاق کی جانب سے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے پٹرولیم مارکیٹ کی موجودہ صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی منڈی میں پیش رفت اور موجودہ دبا کے باعث گیس کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، تاہم صورتحال بہتر ہوتے ہی گیس کی منصفانہ تقسیم کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا۔ اجلاس کے اختتام پر دونوں رہنماں نے توانائی کے دیرینہ مسائل کے مستقل حل اور جامع رپورٹ مرتب کرنے کے لیے سیکرٹری سطح کی ایک مشترکہ کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا، جو جلد اپنی سفارشات پیش کرے گی۔
