پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور سابق وزیراعظم عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ کے درمیان یہودی شناخت سے متعلق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر تبادلۂ خیال ہوا ہے۔ یہ معاملہ 18 ستمبر 2026 کو سامنے آیا۔
خواجہ آصف نے اپنی ایکس پوسٹ میں یہودی شناخت کے مادری نسب (Matrilineal Descent) کے اصول کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی یہودی روایت میں یہودی شناخت ماں کی نسبت سے طے ہوتی ہے۔ ان کے مطابق اگر کسی شخص کی والدہ یہودی ہو تو والد کے مذہب سے قطع نظر اولاد کو یہودی تصور کیا جاتا ہے۔
خواجہ آصف کی پوسٹ پر ردعمل دیتے ہوئے جمائما گولڈ اسمتھ نے کہا کہ وزیر دفاع کی بیان کردہ اصولی بات درست ہے، تاہم اسی اصول کے تحت یہودی برادری نے انہیں کبھی یہودی تسلیم نہیں کیا کیونکہ ان کی والدہ چرچ آف انگلینڈ سے وابستہ پروٹسٹنٹ عیسائی تھیں۔
جمائما نے مزید کہا کہ اسی اصول کے مطابق ان کے والد بھی یہودی نہیں تھے کیونکہ ان کی دادی فرانسیسی کیتھولک تھیں۔ انہوں نے خواجہ آصف پر الزام عائد کیا کہ ان کے بیٹوں کو نیچا دکھانے کی کوشش میں وزیر دفاع نے یہ معاملہ اٹھایا۔
بعد ازاں خواجہ آصف نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد کسی فرد یا خاندان کو نشانہ بنانا نہیں تھا۔ ان کے مطابق انہوں نے صرف ایک مذہبی اصول بیان کیا تھا اور تمام اہلِ کتاب کا احترام کرتے ہیں۔
اس معاملے پر عمران خان اور جمائما کے بیٹے قاسم خان نے بھی ردعمل دیا اور خواجہ آصف کی پیش کردہ منطق پر سوال اٹھایا۔
یہ بحث بنیادی طور پر یہودی مذہبی شناخت میں مادری نسبت کے اصول، خاندانی پس منظر اور اس کے سیاسی حوالوں کے گرد گھوم رہی ہے۔ مختلف یہودی مکاتبِ فکر میں مذہبی شناخت کے حوالے سے طریقۂ کار میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔

