ترکیہ کے وزیر خارجہ حاکان فیدان نے کہا ہے کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ مثبت انداز میں آگے بڑھ رہا ہے اور معاہدے کو عملی شکل دینے کے لیے تیزی سے کام جاری ہے۔
حاکان فیدان نے ترک ٹی وی چینل NTV سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مکہ اتحاد اس وقت اچھی اور مثبت سطح پر ہے اور تینوں ممالک کی جانب سے اسے عملی شکل دینے کے لیے مضبوط عزم موجود ہے۔ ان کے مطابق اگلے مرحلے میں اتحاد کے لیے عملہ تعینات کرنے اور ہیڈکوارٹر کو فعال کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
ترک وزیر خارجہ کے مطابق معاہدے کے تحت بننے والے سیکریٹریٹ اور فوجی ہیڈکوارٹر کے قیام کی تیاری تقریباً مکمل ہوچکی ہے اور تینوں ممالک کے درمیان اس حوالے سے بنیادی امور پر اتفاق رائے پیدا ہوگیا ہے۔
فیدان نے کہا کہ ادارہ جاتی ڈھانچہ مکمل ہونے کے بعد خطے کے دیگر ممالک کو بھی اتحاد میں شامل کرنے کے حوالے سے بات چیت کی جاسکتی ہے۔ ان کے مطابق مکہ اتحاد کسی بیرونی ملک کے خلاف بلاک بنانے کے بجائے خطے کے ممالک کے درمیان مشترکہ دفاع اور علاقائی سطح پر مسائل کے حل کے لیے قائم کیا گیا ہے۔
انہوں نے حالیہ حوثی حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری کے حوالے سے ترکیہ کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔ فیدان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو مخصوص تکنیکی نوعیت کی فوجی ضروریات درپیش ہوں تو ترکیہ انہیں پورا کرنے میں مدد دینے کے لیے تیار ہے۔
مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ پر 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب نے دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے بنیادی اصول کے مطابق تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملے کو تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

