اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس ہوا۔ چاروں ممالک نے خطے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال اور جاری تنازعات پر تبادلہ خیال کیا۔
اجلاس کے بعد جاری مشترکہ بیان میں سعودی عرب کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کی گئی، بشرطیکہ یہ حق بین الاقوامی قانون کے مطابق استعمال کیا جائے۔ چاروں ممالک نے خطے میں محفوظ بحری نقل و حرکت برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
ممالک نے خطے میں جاری تنازعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی پائیدار حل کا راستہ ہیں۔ یمن کی حکومت کی امن و استحکام کے لیے کوششوں کی بھی حمایت کی گئی۔
یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا ہے جب سعودی عرب کو یمن کے ایران نواز حوثیوں کے حملوں کا سامنا ہے۔ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب اس سے قبل مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ بھی طے کر چکے ہیں، جبکہ ترکیہ نے کہا تھا کہ دفاعی معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں ہے۔

