اسلام آباد (حبہ عباسی)خواتین کے حقوق، تحفظ اور بااختیار بنانے کے دعوے تو بہت ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ خواتین کے لیے قائم سب سے اہم قومی ادارہ آج بھی مستقل سربراہ سے محروم ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف ہوا کہ چیئرپرسن کی تعیناتی کے لیے پانچ بار اشتہارات دیے گئے، انٹرویوز بھی ہوئے، مگر حکام کے مطابق موزوں امیدوار نہیں ملا۔ اس پر ارکان کمیٹی بھی حیران رہ گئے اور سوال اٹھایا کہ کیا واقعی پورے پاکستان میں ایک بھی ایسی خاتون موجود نہیں جو اس ادارے کی سربراہی کر سکے؟دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک طرف خواتین کے لیے ڈیجیٹل ڈیش بورڈز، پورٹلز، ٹریکر سسٹمز اور بڑے بڑے منصوبوں کے دعوے کیے جا رہے ہیں، دوسری طرف وہی ادارہ مستقل قیادت سے محروم ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب کپتان ہی نہ ہو تو ٹیم کی کارکردگی کا حساب کون دے گا؟اجلاس میں یہ بھی سامنے آیا کہ 2023 کے بعد کمیشن کی کوئی سالانہ رپورٹ شائع نہیں ہو سکی۔ یعنی خواتین کے حقوق سے متعلق پالیسیوں، چیلنجز اور پیش رفت کی تصویر عوام کے سامنے ہی نہیں آ سکی۔ دوسری جانب حکام خود اعتراف کر رہے ہیں کہ مستند ڈیٹا کی کمی اور مختلف اداروں کے اعداد و شمار میں تضاد ایک بڑا مسئلہ ہے۔سوال صرف ایک چیئرپرسن کا نہیں، سوال ترجیحات کا ہے۔ اگر خواتین کے حقوق واقعی قومی ترجیح ہیں تو پھر اہم ادارے مستقل سربراہ کے بغیر کیوں چل رہے ہیں؟ اگر قابل امیدوار نہیں مل رہے تو مسئلہ امیدواروں کا ہے یا تقرری کے نظام کا؟ اور اگر برسوں بعد بھی بنیادی انتظامی خلا برقرار ہے تو پھر خواتین کے تحفظ اور بااختیاری کے بلند و بانگ دعووں کی حقیقت کیا ہے؟کمیٹی اجلاس میں اٹھنے والا یہی سوال سب سے بڑا انکشاف بن گیا کہ خواتین کے حقوق کے لیے بنائے گئے ادارے خود انتظامی بے یقینی اور تاخیر کا شکار ہیں، جبکہ دوسری جانب ملک بھر کی خواتین ان ہی اداروں سے انصاف، تحفظ اور رہنمائی کی امید لگائے بیٹھی ہیں۔
