لاہور (جنرل رپورٹر)پنجاب میںپولیو کے خاتمے کی مہم کو بڑا دھچکا، صوبے کے تین اہم اضلاع ڈی جی خان، راجن پور اور مظفرگڑھ میں انسداد پولیو مہم مقررہ شیڈول کے مطابق شروع نہ ہوسکی، جس کے باعث پانچ سال سے کم عمر 24لاکھ سے زائد بچے پولیو سے بچائو کے قطرے پینے سے محروم رہ گئے۔ ذرائع کے مطابق تینوں اضلاع میں مہم کے انعقاد کیلئے مطلوبہ انتظامات مکمل نہ ہونے، سکیورٹی پلان میں تاخیر اور ضروری آپریشنل سامان کی عدم دستیابی کے باعث مہم موخر کرنا پڑی۔ذرائع کے مطابق ڈیرہ غازی خان میں 8لاکھ 16ہزار، راجن پور میں 5لاکھ 81ہزار جبکہ مظفرگڑھ میں 10لاکھ 25ہزار سے زائد بچوں کو پولیو ویکسین پلانے کا ہدف مقرر تھا، تاہم مہم شروع نہ ہونے کے باعث اتنی بڑی تعداد میں بچے حفاظتی ویکسین سے محروم رہ گئے۔ محکمہ صحت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیو مہم کے لیے درکار ویکسین کیریئرز، فنگر مارکرز اور دیگر ضروری سامان کی بروقت فراہمی یقینی نہیں بنائی جاسکی جبکہ پولیس کی جانب سے سکیورٹی پلان بھی مکمل نہ ہونے کے باعث فیلڈ سرگرمیاں شروع نہ ہوسکیں۔ذرائع کے مطابق پولیو کے خاتمے کے لیے ہر مہم کو انتہائی حساس اور مربوط آپریشن کے طور پر چلانے کے باوجود تین اضلاع میں 24لاکھ سے زائد بچوں کی کوریج متاثر ہونا انتظامی تیاریوں پر سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ خاص طور پر ایسے اضلاع جہاں بچوں کی بڑی تعداد موجود ہے، وہاں مہم کے آغاز سے قبل ویکسین، فیلڈ سامان، ٹیموں اور سکیورٹی انتظامات مکمل کرنا محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ ضروری انتظامات مکمل ہوتے ہی تینوں اضلاع میں پولیو مہم شروع کر دی جائے گی اور امکان ہے کہ چند ہفتوں بعد خصوصی مہم کے ذریعے محروم رہ جانے والے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔ پنجاب کے دیگر اضلاع میں انسداد پولیو مہم جاری ہے جبکہ موخر ہونے والے اضلاع کی انتظامیہ کو تیاریوں کو جلد مکمل کرنے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔
