ملتان(مرزاندیم سے)حکمرانوں کی کرپشن ،بڑھتی ہوئی بیروزگاری،ہوشربامہنگائی،انصاف کی عدم فراہمی،عدم برداشت اور انٹرنیٹ کے غلط استعمال کی وجہ سے پنجاب خودکشیوں کے حوالے سے پاکستان بھر میں سر فہرست آگیا ہے۔ ہرسال پاکستان میں ہزاروں لوگ خودکشی کے باعث جان گنواتے ہیں۔چونکہ پنجاب آبادی کے لحاظ سے ملک کاسب سے بڑاصوبہ ہے اس لیے خودکشی کے واقعات کا بڑاحصہ تقریباً70فیصد سے زائدپنجاب سے ہی سامنے آتاہے۔استحصال کا شکار خطے میں خود کشیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات نے گزشتہ کئی برسوں کے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ جہاں پہلے روزانہ کی بنیاد پر 20 سے 25 خودکشی کے واقعات رپورٹ ہو تے تھے ، اب ان کی تعداد 100تک پہنچ گئی ہے۔ ان واقعات میں ہوشربا اضافہ نے ملک بھر کو ہلا کر رکھ دیا ہے جبکہ بے حس حکمران اور معاشرہ ان واقعات میں برابر کا شریک ہے۔ ایک سرکاری تنظیم کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال2025 سے اب تک صرف جنوبی پنجاب میں 7ہزارسے زائدخودکشی کے واقعات رپورٹ ہوئے جس میں زیادہ تر تعداد خواتین کی ہے۔ صرف دوسال میں ایسے واقعات میں 3 گنا اضافہ حکومت کیلئے لمہ فکریہ ہے۔ خودکشی کے اکثر واقعات تو رپورٹ ہی نہیں کئے جاتے۔ لوگ بدنامی کے ڈر سے دبا لیتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں تھانے کچہری سے بچنے کیلئے خود کشیوں کے واقعات کو بھی حادثاتی موت قرار دے کردفن کر دیئے جاتے ہیں۔ خودکشی کے واقعات میں کالا پتھر کا استعمال بہت زیادہ کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ گندم میں رکھنے والی گولیاں، سپرے بلیچنگ اور چوہے مار گولیوں کا بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ پٹرول چھڑک کر اپنے آپ کو جلانے کی کوشش کے واقعات بھی رونما ہور ہے ہیں۔ تو جوان لڑکے اور لڑکیاں فیس بک پر دوستی کر کے بات شادی تک لے جاتے ہیں اور پھر نا کامی پر ڈپریشن کا شکار ہو کر خود کو مارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس حوالے سے ”خبریں”نے جب ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع سے 2026 کے پہلے9 ماہ میں ہونیوالے خودکشی کے واقعات اکٹھے کئے تو معلوم ہوا کہ نشتر ہسپتال ملتان میں 470واقعات رپورٹ ہو ئے جس میں کالا پتھر ،کیڑے مار اور چوہے مار گولیوں کے استعمال کے کیسززیادہ درج ہوئے۔ متعددافراد زندگی کی بازی ہار گئے۔ رحیم یارخان میں ایک 188افراد نے خود کشی کی کوشش کی۔بہاول وکٹوریہ ہسپتال کے ر یکارڈ کے مطابق 125افراد کی کی طرف سے خودکشی کی کوشش کی گئی جن میں سے 7 جاں بحق ہوگئے۔لودھراں میں 17 کہروڑ پکا 20 دنیا پور 12 مظفر گڑھ 13 ڈیرہ غازیخان 25خانیوال 13 اور وہاڑی میں 9 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ رپورٹ نہ ہونے والے خودکشی کے واقعات کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ بہت سے کیسز پولیس خود ہی دبا دیتی ہے۔ اگر مقدمات کا اندراج کرلیا جائے تو بھی ایسے واقعات میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ اس حوالے سے شہری و سماجی حلقوں نے حکومتی عہدیداروں سے اپیل کی ہے کہ خودکشی کے واقعات کی روک تھام کیلئے موثر اور جامع منصوبہ بندی کی جائے۔ صرف بیروزگاری، مہنگائی اور غربت کے خاتمے کیلئے خاطر خواہ انتظامات کر لئے جائیں تو ایسے واقعات میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ اگر حالات یہی رہے تو ہر دوسرا شخص خود کشی بارے سوچنا شروع کر دے گا۔
خودکشی
