اسلام آباد ( نامہ نگار خصوصی) اٹھارہ دن سے زائد عرصے سے اسلام آباد ایک سیاسی میدانِ جنگ کا منظر پیش کر رہا ہے۔ ڈی چوک اور ریڈ زون کے گرد کھڑے کنٹینرز اب صرف رکاوٹیں نہیں رہے بلکہ عوام کے ٹیکسوں پر کھڑا ایک مہنگا حصار بن چکے ہیں۔حکومت اور پی ٹی آئی اپنی اپنی سیاسی طاقت آزما رہی ہیں لیکن اس جنگ کا خرچہ خاموشی سے عوام کی جیب سے وصول کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف شہریوں کو کفایت شعاری کے درس دیے جا رہے ہیں، دوسری طرف دارالحکومت کی سڑکوں پر کھڑے کنٹینرز روزانہ لاکھوں اور کروڑوں روپے کے اخراجات نگل رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا عوام کا پیسہ سیاسی محاذ آرائی پر خرچ کرنے کا کوئی حساب بھی موجود ہے؟اسلام آباد کی بند شاہراہیں صرف ٹریفک جام کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک معاشی لاگت بھی ہیں۔ مریض ہسپتالوں تک پہنچنے میں تاخیر کا شکار ہیں، ملازمین گھنٹوں سڑکوں پر پھنسے رہتے ہیں، کاروبار متاثر ہو رہے ہیں اور ٹرانسپورٹرز نقصان اٹھا رہے ہیں، مگر سیاسی طاقت کے اس کھیل میں عام شہری کہیں دکھائی نہیں دیتا۔
ان کنٹینرز نے صرف راستے بند نہیں کیے، بلکہ یہ اس سوال کی علامت بن چکے ہیں کہ آخر کب تک عوام کے ٹیکسوں سے سیاسی لڑائیاں لڑی جاتی رہیں گی؟ جب مہنگائی کا بوجھ برداشت کرنے والے شہریوں کو ہر روپے کا حساب دینا پڑتا ہے تو پھر ہفتوں سے سڑکوں پر کھڑے کنٹینرز کے اخراجات کا حساب کون دے گادارالحکومت کے بیچوں بیچ کھڑی یہ آہنی دیواریں ایک تلخ حقیقت بیان کر رہی ہیں: سیاستدانوں کی جنگ جاری ہے، مگر اس کا بل ہمیشہ کی طرح عوام کے نام پر ہی کاٹا جا رہا ہے۔
