راولپنڈی(سٹی رپورٹر) شہر بھر میں سبزیوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے شہریوں کی مشکلات بڑھا دیں، روزمرہ استعمال کی سبزیاں عام آدمی کی پہنچ سے دور ہونے لگیں، متوسط اور سفید پوش طبقہ مہنگائی کے بوجھ تلے دب کر رہ گیا۔ راولپنڈی کے مختلف بازاروں میں کیے گئے سروے کے دوران سبزیوں کے نرخوں نے شہریوں کو پریشان کر دیا، جبکہ گھریلو بجٹ متاثر ہونے کے باعث شہریوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔مارکیٹ سروے کے مطابق آلو 80 روپے، ٹماٹر 170 روپے، کریلا 250 روپے، پیاز 230 روپے، بینگن 180 روپے، گوبھی 200 روپے، شملہ مرچ 400 روپے، شلجم 200 روپے، ادرک 600 روپے اور ہری مرچ 600 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے۔ سبزیوں کی قیمتوں میں اضافے کے باعث شہریوں نے خریداری محدود کر دی ہے اور کئی خاندان ضرورت کے مطابق سبزیاں خریدنے کے بجائے کم مقدار پر گزارا کرنے پر مجبور ہیں۔کٹاریاں مارکیٹ، سید پور روڈ،اصغر مال، چار نمبر چونگی،ڈھوک دلال،بنی چوک سمیت مختلف علاقوں کے رہائشیوں نے مہنگائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آمدن میں اضافہ نہ ہونے کے باوجود اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ شہریوں کے مطابق تنخواہوں کا بڑا حصہ بجلی، گیس، کرایوں اور اشیائے خورونوش پر خرچ ہو جاتا ہے، جس کے بعد گھر کے دیگر ضروری اخراجات پورے کرنا دشوار ہو جاتا ہے۔ایک بائکیا چلانے والے نے بتایا کہ پیٹرول دن بدن مہنگا ہوتا جا رہا ہے، لیکن روزمرہ اخراجات پہلے کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔ اب سبزی خریدنے سے پہلے بھی قیمت دیکھنا پڑتی ہے اور گھر کے لیے ضروری اشیا میں کمی کرنا مجبوری بن گئی ہے۔ایک خاتون شہری نے اپنی مشکلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ سفید پوش خاندانوں کے لیے مہنگائی نے زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ ان کے مطابق نہ انہیں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مالی مدد ملتی ہے اور نہ ہی کسی دوسرے امدادی پروگرام سے فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ پہلے 15 ہزار روپے میں گھر کے بنیادی اخراجات کسی حد تک پورے ہو جاتے تھے، لیکن اب سبزیوں اور دودھ جیسی ضروری اشیا پر ہی بڑی رقم خرچ ہو جاتی ہے، جبکہ بچوں کی تعلیم، بجلی کے بل اور دیگر اخراجات الگ ہیں۔ایک بزرگ شہری کا کہنا تھا کہ شملہ مرچ 400 روپے کلو فروخت ہونا عام آدمی کے لیے کسی صدمے سے کم نہیں۔ سبزیاں سرکاری ریٹ پر نہی ملتی، اب ان کی خریداری بھی سوچ سمجھ کر کرنا پڑتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو کم آمدن والے خاندانوں کے لیے مناسب خوراک کا انتظام کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔دوسری جانب سبزی فروشوں کا کہنا ہے کہ انہیں منڈیوں سے سبزیاں مہنگے داموں مل رہی ہیں، جس کے باعث انہیں بھی قیمتیں بڑھانا پڑتی ہیں۔ دکانداروں کے مطابق منڈی سے خریداری، ٹرانسپورٹ اور دیگر اخراجات میں اضافے کے باعث کاروبار چلانا مشکل ہو رہا ہے، تاہم شہریوں کا مقف ہے کہ دکانوں پر فروخت ہونے والی سبزیوں کے نرخوں میں یکسانیت نہیں اور مختلف بازاروں میں ایک ہی چیز مختلف قیمتوں پر دستیاب ہے۔شہریوں نے پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ سرکاری نرخ نامے آویزاں ہونے کے باوجود بازاروں میں ان پر مثر عملدرآمد دکھائی نہیں دیتا۔ ان کے مطابق دکانداروں کی باقاعدہ جانچ پڑتال اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائی نظر نہیں آتی، جس کی وجہ سے صارفین کو اپنی مرضی کے نرخ وصول کیے جانے کی شکایات کا سامنا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے مہنگائی پر قابو پانے کے دعوں کے باوجود عام آدمی کو عملی ریلیف نہیں مل رہا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سبزی منڈیوں میں روزانہ کی بنیاد پر نگرانی کی جائے، تھوک اور پرچون قیمتوں میں فرق کا جائزہ لیا جائے، سرکاری نرخ ناموں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔شہریوں نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی سے متاثرہ کم آمدن خاندانوں کے لیے فوری ریلیف پیکیج متعارف کرایا جائے اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے مثر اقدامات کیے جائیں، کیونکہ موجودہ حالات میں عام شہری کے لیے گھر کا بجٹ متوازن رکھنا روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
1530 میگاواٹ پیداواری صلاحیت کا منصوبہ ملکی توانائی کی ضروریات پوری کرنے اور ماحول دوست بجلی کی فراہمی میں معاون ثابت ہوگا، تربیلا پانچویں توسیعی پن بجلی منصوبے کی تعمیر میں ایک اور اہم سنگِ میل عبور کر لیا گیا ہے۔ واپڈا نے منصوبے کی ریزڈ اِن ٹیک شافٹ کو موجودہ ٹنل سے منسلک کرنے والی کنیکٹنگ ٹنل کا بریک تھرو کامیابی سے مکمل کر لیا، جو منصوبے کی تعمیراتی پیش رفت اور تکمیل کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے،تفصیلات کے مطابق 1530 میگاواٹ پیداواری صلاحیت کے حامل تربیلا پانچویں توسیعی پن بجلی منصوبے میں کنیکٹنگ ٹنل کا بریک تھرو متعلقہ ماہرین اور منصوبے پر کام کرنے والی ٹیموں کی مسلسل محنت، فنی مہارت اور مثر باہمی رابطے کا نتیجہ ہے،اس مرحلے کی کامیاب تکمیل سے منصوبے کی تعمیر میں مزید پیش رفت کی راہ ہموار ہوئی ہے،تربیلا پانچواں توسیعی پن بجلی منصوبہ ملک میں پن بجلی کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے ساتھ توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا،منصوبے سے ماحول دوست اور قابلِ تجدید بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہوگا، جس سے قومی توانائی نظام کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔
