اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی )لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) نے پنجاب میں فضائی آلودگی کے اسباب کی نشاندہی کے لیے سینٹر فار ایئر پولیوشن اینڈ انوائرنمنٹ (CAPE) قائم کر دیا۔ اس مرکز کے قیام کے لیے Coefficient Giving نے مالی امداد فراہم کی ہے، جس کے تحت کئی سال پر محیط تحقیقی مطالعہ کیا جائے گا۔ پنجاب کے مختلف مقامات پر ہونے والی اس تحقیق کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ فضائی آلودگی کن ذرائع سے پیدا ہوتی ہے اور ہر ذریعہ ہوا کو کتنا آلودہ کرتا ہے۔ منصوبے میں فضائی آلودگی کے کیمیائی تجزیے کے لیے جدید ترین لیبارٹری کا قیام بھی شامل ہے۔ لمز کے شعبہ کیمسٹری اینڈ کیمیکل انجینئرنگ کے فیکلٹی ممبر ڈاکٹر قاسم امتیاز اس مرکز کے بانی ڈائریکٹر ہیں، جبکہ ڈاکٹر فرح سعید، ڈاکٹر شہانہ خورشید اور ڈاکٹر والٹر شوارزباخر بھی اس کی ٹیم میں شامل ہیں۔ مرکز کی افتتاحی تقریب میں لمز کی قیادت، مرکز کے پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے اراکین، صوبائی حکومت کے محکموں، فضائی معیار پر کام کرنے والے اداروں، محققین اور ترقیاتی شراکت داروں نے شرکت کی۔ تقریب میں پنجاب کو درپیش فضائی آلودگی کے مسائل اور ان سے نمٹنے کے لیے تحقیق سے حاصل ہونے والی معلومات کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لمز کے پرووسٹ ڈاکٹر طارق محمود جدون نے افتتاحی تقریب کا آغاز کیااور مرکز کے قیام کے مقاصد اور فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے سائنسی تحقیق کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ سید بابر علی اسکول آف سائنس اینڈ انجینئرنگ کے ڈین ڈاکٹر والٹر شوارزباخرنے بھی اسکول کے تحت اس مرکز کے قیام کے حوالے سے اظہارِ خیال کیا۔مرکز کے مقاصد اور تحقیقی منصوبوں کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر قاسم امتیاز نے کہا، فضائی آلودگی سے مثر انداز میں نمٹنے کے لیے ہمیں آلودگی کی مقدار جانچنے کے لیے باقاعدہ اعداد و شمار جمع کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ معلوم ہو سکے کہ کون سے ذرائع ہوا کو کتنا آلودہ کرتے ہیں۔ CAPE یہ معلومات فراہم کرے گا اور حکومت، محققین اور مقامی آبادیوں کے ساتھ مل کر ان کی بنیاد پر ایسے مخصوص اقدامات کرنے کے لیے کام کرے گا جو انسانی صحت کے تحفظ میں مددگار ہوں۔مرکز کی تحقیق میں آلودگی کے ذرائع اور ان کے اثرات کو سمجھنے، اسکولوں کے اندر ہوا کے معیار کا جائزہ لینے اور سائنسی تحقیق، مقامی آبادیوں اور پالیسی سازی کے درمیان روابط مضبوط بنانے پر توجہ دی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے پنجاب کے مختلف مقامات سے جمع کیے گئے فضائی آلودگی کے نمونوں کی کیمیائی جانچ کی جائے گی، تاکہ معلوم ہو سکے کہ آلودگی کے مختلف ذرائع اس میں کتنا حصہ ڈالتے ہیں۔ڈاکٹر شہانہ خورشید کی زیرِ صدارت ایک نشست میں محکمہ تحفظِ ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی، اربن یونٹ اور پاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹو کے نمائندوں نے پنجاب میں اسموگ میں کمی کے اقدامات، فضائی معیار کی نگرانی، مختلف شعبوں سے آلودگی کے اخراج کے اعداد و شمار، فضائی معیار کے عملی منصوبوں اور شہریوں کی نگرانی و آگاہی کے لیے جاری کوششوں سے آگاہ کیا۔سیشن کے اختتام پر امریکن بزنس فورم (ABF) کے صدر عثمان خالد وحید نے مقررین کو اعزازی شیلڈز سے نوازا۔اس نشست میں پنجاب میں دستیاب اعداد و شمار اور فضائی معیار کی نگرانی کے موجودہ اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے ساتھ ان پہلوں کی بھی نشاندہی کی گئی جہاں صوبے میں فضائی آلودگی کی شدت کو سمجھنے اور اس سے نمٹنے کے لیے مزیدسائنسی تحقیق کی ضرورت پر بھی زور دیا۔تقریب میں ڈاکٹر فرح سعید کی زیرِ صدارت فضائی آلودگی سے متعلق موضوعات پر ماہرین نے تبادلہ خیال کیا۔ اس میں حکومتِ پنجاب کے محکمہ ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ کے سیکریٹری اور صوبائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے نمائندے محمد حسان احسن، پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر محمد احسن یونس، محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب کی ایڈیشنل سیکریٹری (یونیورسٹیز) زاہدہ اظہر اور قائداعظم یونیورسٹی کے اسکول آف سوشیالوجی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد زمان نے شرکت کی۔گفتگو میں پنجاب میں فضائی آلودگی کے مسائل اور ان موضوعات پر بات کی گئی جن پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ شرکا نے ان شعبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا جہاں تحقیق سے حاصل ہونے والی معلومات آلودگی پر قابو پانے کے اقدامات کے اثرات کا جائزہ لینے میں مدد دے سکتی ہیں۔ مقررین نے آلودگی کے ذرائع کی نشاندہی، آلودگی پر قابو پانے کے اقدامات کے اثرات کا جائزہ لینے اور شواہد کی بنیاد پر پالیسی سازی کے لیے قابلِ اعتماد اعداد و شمار اور سائنسی تحقیق کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے سرکاری محکموں، محققین اور دیگر متعلقہ فریقوں کے درمیان تعاون کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔تقریب کے اختتام پر لمز کے ریکٹر شاہد حسین نے مقررین، شرکا اور شراکت داروں کا مرکز کے قیام اور افتتاحی تقریب میں ان کے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔پاکستان میں فضائی آلودگی اب بھی ماحول اور انسانی صحت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ حالیہ تخمینوں کے مطابق، اگر بیرونی فضا میں آلودگی کی سطح کو بین الاقوامی صحت کے رہنما اصولوں کے مطابق کم کر دیا جائے تو کراچی میں اوسط متوقع عمر میں تقریبا 2.6 سال، اسلام آباد میں 4.6 سال اور لاہور میں 5.3 سال اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ اعداد و شمار موجودہ فضائی آلودگی کے باعث انسانی صحت کو لاحق خطرات اور فضائی معیار کو مثر انداز میں بہتر بنانے سے حاصل ہونے والے ممکنہ فوائد کو اجاگر کرتے ہیں۔
بریکنگ نیوز
- فتح جنگ :پی پی پی کسان ونگ کے صدر آصف حیات خان گورنر پنجاب سردار سلیم خان سے ملاقات کررہے ہیں ۔
- خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے بعد اسلام آباد میں سکیورٹی مزید سخت
- ریاض:مشوانی قبائل کی جانب سے سراج الحق کے اعزاز میں دی گئی تقریب کے موقع پر لی گئی گروپ تصویر۔
- راولپنڈی پولیس کی کارروائیاں ،9افراد گرفتار،پتنگیں،ڈوریں شراب اور اسلحہ معہ ایمونیشن برآمدکرلیا
- برٹش ہائی کمشنرکا ڈپٹی کمشنر چکوال سارہ حیات کے ہمراہ موضع مرید کا دورہ
- کی کاوشیں جاری اسلام آباد کو ترقی یافتہ، سرسبز دارالحکومت بنانے کیلئے CDA
- ریاض:مشوانی قومی تڑون قبیلہ کی جانب سے سراج الحق کے اعزاز میں عشائیہ
- پنجاب کالج جنڈ میں پرنسپل ملک اقبال کی زیرِ صدارت سیرت النبی ۖ کانفرنس
- پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں میں سر عام غیر قانونی ایل پی جی گیس بھرنے کا سلسلہ جاری
- کرکٹ سیریز کیلئے فول پروف سیکورٹی انتظامات کئے گئے: مشتاق سکھیرا
- نوٹسز بے سود3 ہزار سے زائد شاپنگ مالز بڑی عمارتیں فائر سیفٹی انتظامات سے محروم
- راولپنڈی،،شادی شدہ خاتون سے زیادتی کرنے والے 2 افراد گرفتار
- راولپنڈی، 3 مختلف مقدمات میں مطلوب 4 اشتہاری مجرم گرفتار
- پاکستان سری لنکا دوسرا ٹی 20 میچ پر سکیورٹی و ٹریفک کے موثر انتظامات
- کراچی:ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے گلستان جوہر میں نئے صوبوں ‘ انتظامی یونٹس اور بااختیار بلدیاتی نظام کے حوالے سے منعقدہ عوامی رابطہ مہم سے ڈاکٹر فاروق ستار خطاب کر رہے ہیں۔
- جاپانی سفیر اکاماٹسو شوئچی کی ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، فیروز شاہ سے ملاقات
- کراچی پورٹ کی عالمی انڈیکس میں ریکارڈ کارکردگی، وزیراعلیٰ سندھ کی مبارکباد
- راولپنڈی کینٹ بورڈ کے دروازے عوام کیلئے ہمیشہ کھلے ہیں:زاہد بختاوری
- لاہور:چڑیا گھرکی سیر کیلئے آنے والے شہری داخلی راستے پر اپنی ٹکٹ چیک کرا رہے ہیں۔
- صحافیوں پر فیصل ہلزانتظامیہ کا تشدد معاملہ، رشید مغل کا حکام سے نوٹس کا مطالبہ
