اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)وفاقی دارالحکومت
اسلام آباد میں آبپارہ مارکیٹ کے عقب میں قائم قدیم اخبار فروش مارکیٹ دو روز کی بندش کے بعد کھول دی گئی، جس سے اخبارات کی ترسیل سے وابستہ اخبار فروشوں اور تقسیم کاروں نے سکھ کا سانس لیا۔ مارکیٹ کو کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی جانب سے سیل کیے جانے کے بعد صحافتی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی تھی، جبکہ آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) نے بھی اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ سے فوری مداخلت اور مارکیٹ کھلوانے کا مطالبہ کیا تھا۔اخبار فروش مارکیٹ 16 اکتوبر کو سیل کی گئی تھی، جس کے باعث وفاقی دارالحکومت میں اخبارات کی تقسیم کے معمولات متاثر ہوئے۔ مارکیٹ کی بندش سے اخبار فروشوں اور تقسیم کاروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ اخبارات کی بروقت ترسیل کے حوالے سے بھی خدشات پیدا ہوئے۔ تاہم دو روز بعد مارکیٹ کھولے جانے سے اخبارات کی تقسیم کے نظام کی بحالی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کے صدر سینیٹر سرمد علی اور سیکرٹری جنرل محمد اطہر قاضی نے مارکیٹ سیل کیے جانے پر اپنے مشترکہ بیان میں شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس اقدام کو اخبارات کی ترسیل اور آزادی صحافت کے لیے نقصان دہ قرار دیا تھا۔ اے پی این ایس نے مقف اختیار کیا تھا کہ اخبار فروش مارکیٹ کئی دہائیوں سے وفاقی دارالحکومت میں اخبارات کی تقسیم کے اہم مرکز کے طور پر کام کر رہی ہے اور اس کی بندش سے میڈیا اداروں، اخبار فروشوں اور قارئین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔مارکیٹ کی بندش کے معاملے پر سینئر صحافیوں اور صحافتی حلقوں نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ انتظامی معاملات کو اس انداز میں حل کیا جائے کہ اخبارات کی ترسیل اور روزگار سے وابستہ افراد کے معمولات متاثر نہ ہوں۔ صحافتی حلقوں کا کہنا تھا کہ اخبارات کی بروقت ترسیل عوام تک معلومات پہنچانے کے عمل کا اہم حصہ ہے، اس لیے اس نظام میں رکاوٹ پیدا ہونے سے صحافتی سرگرمیوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔اے پی این ایس نے وفاقی وزیر داخلہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو مارکیٹ کھولنے اور اخبارات کی تقسیم کا نظام معمول پر لانے کی ہدایت کریں۔ دو روز بعد مارکیٹ کھولے جانے سے اخبار فروشوں اور تقسیم کاروں کو درپیش مشکلات میں کمی کی توقع ہے۔دوسری جانب مارکیٹ کو سیل کیے جانے کی وجوہات اور اسے دوبارہ کھولنے کے فیصلے سے متعلق سی ڈی اے کا باضابطہ مقف سامنے آنے پر معاملے کی مزید تفصیلات واضح ہو سکیں گی۔ مارکیٹ کھولے جانے کے بعد اب توجہ اخبارات کی ترسیل کے معمولات کی مکمل بحالی اور مستقبل میں ایسے مسائل سے بچنے کے لیے انتظامی اقدامات پر مرکوز ہے۔
