راولپنڈی(نمائندہ خصوصی)ریلوے کی زمینوں پر تنازعات کے باوجود کینٹ بورڈز، میونسپل کارپوریشن،آر ڈی اے،ضلع کونسل،ضلعی انتظامیہ راولپنڈی کے افسران اور اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت سے پٹرول پمپوں، فیکٹریوں،کارخانوں کے لیے این او سی دے کر ان جگہوں پر نقشوں کی منظوریاں دینا شروع کر دی ہیں،جس پر سی ڈی اے اسلام آباد نے ریلوے کو کمرشل پلاٹ بنا کر پٹرول پمپوں مارکیٹوں، فیکٹریوں کارخانوں کے لیے کمرشل پلاٹ بنا کر لیز پر دینے سے روک دیا ہے،اور اس حوالے سے ریلوے سے وضاحت بھی طلب کرلی ہے،ذرائع کے مطابق راولپنڈی اور اسلام آباد کے علاقوں سی ڈی اے اسلام آباد نے 1968میں 8 اضلاع سے زمین خرید کر ریلوے کو دی تھی،جبکہ راولپنڈی سے 60 ایکڑ 5 کنال سے زائد زمین ایکوائر کر کے ریلوے کو کالونی کے لیے دی تھی،ان جگہوں کو اس جگہ کے رہائشیوں کے بچوں کے لیے سکولوں، پارک، مساجد ، جنازہ گاہ،ڈسپنسری کے لیے استعمال کرنا تھا،قانون کے مطابق ریلوے ان جگہوں پر کالونیوں بنا کر دینا لازمی ہوتا ہے،لیکن اج تک ریلوے کالونی کے لوگوں کو یہ کوئی سہولت نہیں دی،اس وقت سی ڈی اے نے زمین کی آدھی قیمت دی تھی ،اور آدھی قیمت ریلوے نے دی تھی، 1905 کے ایکٹ مطابق انگریز دور میں جو زمین تھی، ریلوے کے نام تھی ،جو 1968 میں سی ڈی اے نے جو جگہ ریلوے کو خرید کر دی تھی، ریلوے نے مارگہ اسٹیشن اور سویٹ ہوم کے اردگرد نرسریاں وغیرہ کی جگہوں کو لیز پر دے دیا ہیں،ان پر کام جاری تھا،سی ڈی اے نے وہ کام بند کروا دیا ہے،سی ڈی اے کا موقف ہے کہ جو جگہ ہم نے ریلوے کو خرید کر دی تھی،وہ جگہ جس مقصد کے لیے دی تھی،اس کے لیے ہی استعمال کیا جاسکتا ہے،ریلوے اس ان جگہوں کو کمرشل پلاٹ بنا کر پٹرول پمپوں، کارخانوں ،پلازوں کے لیے لیز پر نہیں دے سکتا، سی ڈی اے حکام کا کہنا ہے کہ ہم نے 1968 میں جو پراپرٹیز ریلوے کو خرید کر دی تھی،وہ جس پرپز کے لیے لی تھی،اس کے لیے ہی استعمال ہو سکتی،آپ نے وہ زمین پٹرول پمپوں،پلازوں اور فیکٹریوں کے لیے لیز پر دینا شروع کر دی ہے، سی ڈی اے حکام کا کہنا ہے کہ سی ڈی اے ایک اتھارٹی ہے،ہم ماسٹر پلان کے تحت نقشے کے مطابق کام کرتے ہیں،سی ڈی اے نے ریلوے حکام سے اس کی وضاحت طلب کرلی ہے،
