اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) صف اول کے ٹیلی کام اور آئی سی ٹی سروسز ادارے، پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) نے اسلام آباد میں منعقدہ اپنے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں 30 ستمبر 2026 کو ختم ہونے والی تیسری سہ ماہی کے مالی نتائج کا اعلان کر دیا ۔ پی ٹی سی ایل گروپ نے اس عرصے کے دوران ترقی کی مضبوط رفتار برقرار رکھی، جبکہ فکسڈ لائن، انٹرپرائز اور موبائل کاروبار میں بھی مسلسل ترقی کا رجحان جاری رہا۔.گروپ کی مجموعی آمدن میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 62 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کی بنیادی وجہ فکسڈ براڈبینڈ، انٹرپرائز اور ہول سیل شعبوں میں مسلسل ترقی کے ساتھ موبائل کاروبار کی مضبوط کارکردگی رہی، جسے پی ٹی ایم ایل کے تحت یوفون اور ٹیلی نار پاکستان کے کامیاب انضمام سے مزید تقویت ملی۔ گروپ کے مجموعی آپریٹنگ منافع میں سال بہ سال 181 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ خالص منافع 4.7ارب روپے رہا۔ یہ نتائج یوفون اور ٹیلی نار کے کامیاب انضمام، آپریشنل استعداد میں مسلسل بہتری اور آمدن میں اضافے کے فوائد کی عکاسی کرتے ہیں۔ پی ٹی سی ایل کی آمدن میں سال بہ سال 9 فیصد اضافہ ہوا، جس میں فلیش فائبر کی آمدن میں 26 فیصد اور بزنس سلوشنز میں 15 فیصد اضافے نے اہم کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ کیریئر اینڈ ہول سیل سروسز میں 13 فیصد ترقی ریکارڈ کی گئی، جبکہ بین الاقوامی کاروبار سے حاصل ہونے والی آمدن میں سال بہ سال 11 فیصد اضافہ ہوا۔ .پی ٹی سی ایل نے 11 ارب روپے کا آپریٹنگ منافع حاصل کیا، جبکہ خالص منافع 3 ارب روپے رہا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 343 فیصد بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔ انضمام کے بعد ٹیلی نار پاکستان کے کاروبار کو شامل کیے جانے اور کارپوریٹ و ریٹیل شعبوں میں مسلسل ترقی کے باعث موبائل کاروبار (پی ٹی ایم ایل) کی آمدن میں سال بہ سال 139 فیصد اضافہ ہوا۔پی ٹی ایم ایل نے 33.5 ارب روپے کاآپریٹنگ منافع رپورٹ کیا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 181 فیصد زیادہ ہے۔ یہ اضافہ ٹیلی نار پاکستان کے انضمام کے مثبت اثرات، آمدن میں اضافے اور آپریشنل کارکردگی میں بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔ .یو مائیکروفنانس بینک (یو بینک) نے اس مدت کے دوران 18.3 ارب روپے کی آمدن حاصل کی اور آپریٹنگ منافع رپورٹ کیا، جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں بینک کو آپریٹنگ خسارے کا سامنا تھا۔ یہ تبدیلی آپریٹنگ کارکردگی میں بہتری کو ظاہر کرتی ہے۔ گزشتہ مدت کے مقابلے میں بینک کے خالص مالیاتی نتائج میں بھی 84 فیصد بہتری آئی، جو اس کی مالیاتی کارکردگی میں مسلسل بحالی کی نشاندہی کرتی ہے۔
