استنبول (آئی این پی)ترکیہ میں تعینات امریکی سفیر اور شام کیلئے خصوصی نمائندے ٹام بارک نے کہا ہے کہ امریکا رواں ہفتے کے آخر میں ایران پر حملہ کر سکتا ہے، صدر ٹرمپ ایران کیساتھ معاہدے اور مذاکرات کیلئے اب بھی تیار ہیں۔ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور اسرائیل کی جانب سے دھمکیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جاری سفارتی تعطل کے بعد ایران پر دوبارہ حملے کرنے کے امکان کا عندیہ دیا ہے، تاہم ٹرمپ اس سے قبل یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ امریکا میں 3 نومبر کو ہونے والے کانگریس کے انتخابات سے پہلے ایسا نہیں کیا جائے گا۔ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ٹام بارک کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کئی ماہ سے بات چیت جاری ہے، ایران کی امریکا، اتحادیوں اور خلیجی ممالک کو دھمکیوں کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔امریکی سفیر نے کہا کہ امریکی کارروائی کا مقصد ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں ہو گا، امریکی صدر ٹرمپ ایران میں حکومت کی تبدیلی میں دلچسپی نہیں رکھتے، صدر ٹرمپ خطے میں سکیورٹی صورتحال دوبارہ متوازن کرنا چاہتے ہیں۔ٹام بیرک کے مطابق حکومت تبدیل کرنے کے منصوبوں میں ہمیشہ ایک مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے بعد دوسرے دن کیا ہو گا؟۔واضح رہے دو دن پہلے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں دعوی کیا تھا کہ امریکا اور اسرائیل نے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ بڑے حملے کرنے کے منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ اس سے قبل امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے بھی ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے منصوبے کا دعوی کیا تھا۔ادھر ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جنگی جہازوں کو کسی بھی صورت خلیج میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ایرانی مسلح افواج کے سربراہ علی عبداللہی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فوج کے خلیج میں داخل ہونے کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔ علی عبداللہی نے ہفتے کے روز اپنے بیان میں کہا کہ ایران کسی بھی وقت اور کسی بھی صورت امریکی فوجی جہازوں کو خلیج میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔انہوں نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کو خلیج میں اپنی مسلح افواج کی موجودگی کا خواب دیکھنا چھوڑ دینا چاہیے، کیونکہ وہ یہ خواب اپنی قبر تک ساتھ لے جائیں گے۔امریکا کے ترکی میں سفیر ٹام بارک نے بھی خبردار کیا کہ واشنگٹن رواں ہفتے کے اختتام تک ایران پر حملہ کر سکتا ہے۔ ان کے بیان سے خطے میں ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں خلیج کی سکیورٹی اور وہاں امریکی فوجی موجودگی ایک اہم تنازع بن چکی ہے۔ تاہم فراہم کردہ رپورٹ میں کسی نئے حملے کے حتمی فیصلے یا اس کے وقت کی تصدیق نہیں کی گئی۔
